گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، قندھار یا جلال آباد سے نہیں آئے گی،انہوں نے کہا ہےکہ ہماری پہلی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہے،سکیورٹی فورسز کو درکار وسائل فراہم کریں گے۔
پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کےعوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں،جنگ فوج نہیں قوم لڑتی ہے،ہم نے ایک نئے سفر کا آغاز کردیا ہے،ہر چیز پرکٹ لگائیں گے مگر پولیس کو وسائل پورے کرکےدیں گے۔
جامعات کے ملازمین کو یقین دلاتا ہوں کہ انہیں تنخواہیں ملیں گی،جامعات نوجوانوں کو معیاری اور اعلی تعلیم فراہم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں جو سرکس ہوا اسے مسترد کرنے پرعوام کے شکر گزار ہیں،ان کا کنٹینر لاوارث کھڑا ہے ،انتظار میں ہوں کوئی آئے اور لے جائے،انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں کسی کو توڑ پھوڑ یا بدمعاشی کی اجازت نہیں دیں گے،ہم نے 13 سال کا گند صاف کرنا ہے ،3 ماہ میں فرق نظر آئے گا، کے پی کے عوام نے نفرت انتہا پسندی کی سیاست کو مسترد کردیا،سہیل آفریدی کا سٹیٹس آف لائن ہے،صوبے میں امن وامان میں بہتری آرہی ہے، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے نمٹا جائے گا۔
گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ وہ زمانے گئے جب وفاق اور صوبے میں تعاون نہیں ہوتا تھا،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبے کو درکار وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی،صوبے میں جس چیز کی کمی ہوگی وفاق پوری کرے گا،امن ہوگا تو ہی صوبےمیں سرمایہ کاری آئے گی،مشکلات ہیں لیکن ناامیدی حرام ہے، ہماری کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی وفاق سے کے پی کا مقدمہ نہیں لڑتی تھی،کے پی کا مقدمہ گالم گلوچ سے نہیں دلائل کے ساتھ لڑیں گے۔
فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج ہمیں 10 اے پی سی گاڑیاں دی ہیں،وزیراعظم نے صوبے کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،صدرمملکت اور وزیراعظم جلد دورہ کریں گے ،ہمارے مسائل حل کریں گے،بارڈر کی وجہ سے تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے مگر پاکستان کی سلامتی پہلے ہے۔

Leave feedback about this