ایمر جنسی لگانی ہے تو وفاق میں لگاؤ، وہ ناجائز حکومت ہے، جعلی حکومت ہے، اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے وجود میں آئی، تمہاری ناکامی کا تو کوئی حساب ہی نہیں؛ سربراہ جے یو آئی ف کی پریس کانفرنس
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اس ایمرجنسی کے خلاف اپنی جدو جہد کریں گے، کسی بھی صورت اس طرح کے غیر آئینی اقدام کے سامنے نہیں جھکیں گے، ہم صرف دہشتگردی کو زیربحث لائیں، تمہاری ناکامیوں کو زیربحث نہ لائیں؟ ایمر جنسی لگانی ہے تو وفاق میں لگاؤ، وہ ناجائز حکومت ہے، جعلی حکومت ہے، اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے وجود میں آئی، تمہاری ناکامی کا تو کوئی حساب ہی نہیں لیکن بیانیہ تمہاری مرضی کا ہو، چاہے ملک تباہ ہو، آئین تباہ ہو، یہ کون سی عقل کی بات ہے؟۔
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخواہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو عوام کے حق پر ڈاکہ اور شب خون قرار دیتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کر دیا اور اعلان کیا ہے کہ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف عوامی، پارلیمانی اور عدالتی سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے، ہم ایک لمحے کے لیے بھی جھکنے کو تیار نہیں ہیں اور اس غیر آئینی اقدام کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے، ہم عوام سے براہِ راست رابطہ کریں گے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا جو بھی راستہ کاٹا گیا وہ حکومت کی طرف سے کاٹا گیا ہے، یہ جو نامعلوم ہیں، ہمیں سب معلوم ہیں، شہباز شریف سے پوچھیں کہ وہ مذاکرات میں کتنے با اختیار تھے؟ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی والے جمہوریت کے قاتل ہیں، وزیراعظم شہباز شریف سے بات چیت کے دوران جب یہ بات سامنے آئی کہ حکومت چاہتی ہے کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، تو اس معاملے پر پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کے ہسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے، دونوں فریق ایک دوسرے سے پہلے قدم اٹھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ میں نے دونوں طرف سے ثالثی کا اختیار مانگا اور کانفرنس کال کے ذریعے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو اعتماد میں لیا، جب سہیل آفریدی سے پوچھا کہ کیا مطالبات تسلیم ہونے پر لانگ مارچ ختم کر دیا جائے گا؟ تو وزیراعلیٰ نے اس پر رضامندی ظاہر کی، آج صبح وزیراعظم ہاؤس گئے اور آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ عمران خان سے ملاقات اور علاج کی سہولت کا وعدہ پورا کیا جائے، وزیراعظم نے کہا کابینہ کا اجلاس شام کو ہو سکتا ہے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ میرا ارادہ پشاور جا کر وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کرنے کا تھا اور مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے دو، دو رہنماؤں کو بٹھا کر اپنی نگرانی میں معاملات طے کرنا چاہتے تھے لیکن اسی دوران کابینہ کے اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فون کر کے بتایا کہ حکومت دہشت گردی کے پیشِ نظر ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے۔
سربراہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ میں نے اسحاق ڈار سے دوٹوک سوال کیا کہ اگر بات دہشت گردی کی ہے تو بلوچستان میں تو حالات خیبر پختونخواہ سے بھی زیادہ خراب ہیں، پھر وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی گئی؟ میں نے ان سے مزید کہا کہ ہم نے نائن الیون کے بعد بھی امریکی جنگ کی مخالفت کی تھی، لیکن اس طرح کے امتیازی اور جبر کے فیصلے ناقابلِ قبول ہیں۔

Leave feedback about this