یہ عمل جمہوری اقدار اور آئین کی روح کی مکمل نفی ہے، جمہوریت کا یہ قتل ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں ہوا ہے، جو جمہوری روایات کی دعویدار رہی ہیں؛ سابق وزیراعظم کا ردعمل
سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے خیبر پختونخواہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ باب قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کی بدقسمت سیاسی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہو گیا، جہاں پاکستان کی واحد منتخب حکومت کو ایک غیر منتخب وفاقی حکومت نے گورنر راج نافذ کر کے تحلیل کردیا ہے۔
خیبرپختونخواہ حکومت جیسی بھی تھی وہ عوام کے دو تہائی اکثریتی ووٹوں کے ذریعے وجود میں آئی تھی، اس حکومت کو ہٹانے کا حق یا اختیار صرف عوام کے پاس تھا۔
شاہد خاقان عباسی نے وفاقی حکومت کے اس قدم کو جمہوری اقدار اور آئین کی روح کی مکمل نفی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک کی موجودہ حساس معاشی، سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں یہ اقدام ریاست اور ملک کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کرے گا، جمہوریت کا یہ بہیمانہ قتل ملک کی ان دو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ہاتھوں ہوا ہے جو خود کو طویل عرصے سے جمہوری روایات اور آئینی بالادستی کا سب سے بڑا دعویدار کہتی رہی ہیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی اور انتظامی مسائل کا حل ہمیشہ آئینی، پارلیمانی اور جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، اگر وفاقی حکومت کے پاس خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں واقعی کوئی ٹھوس وجوہات اور شواہد موجود تھے تو اسے چاہیے تھا کہ وہ اپنا مؤقف چھپانے کے بجائے پاکستانی عوام کے سامنے رکھتی، پارلیمان کے ایوان میں اس پر تفصیلی بحث کرواتی اور عوام کی تائید حاصل کرتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار کے زعم میں آ کر عوام کی رائے اور ان کے بنیادی حق کی اس طرح نفی کرنا پاکستان کے جمہوری نظام اور آئینی بالادستی کی تلخ تاریخ میں ایک اور بدنما داغ ثابت ہوگا، آج جمہوری اقدار اور حب الوطنی کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ اقتدار کی ہوس سے بالاتر ہو کر ملک کے حقیقی مسائل حل کیے جائیں اور ملک کو مزید خوفناک محاذ آرائی سے بچانے کے لیے سیاسی تدبر، آئینی بالادستی، پارلیمانی مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے کو فوری طور پر فروغ دیا جائے۔

Leave feedback about this