دوسروں کے بچوں کو جہاد اور اپنوں کو یورپ اور ترکی بھیجتے ہیں، غریب کا بچہ جہاد پر جائے لیکن مولانا صاحب اور ان کے بچے بھائی یورپ امریکہ کے سیر سپاٹوں پر جاکر عیاشیاں کریں، یہ حلال ہے؟ تقریب سے خطاب
گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور سابق صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کی اور واضح کیا کہ ریاست کے خلاف جنگ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت جیتی جائے گی۔
ایک تقریب سے خطاب کے دوران گورنر خیبر پختونخواہ نے مولانا فضل الرحمان پر لفظی وار کرتے ہوئے کہا کہ غریب کا بچہ جہاد پر جائے اور مولانا صاحب اور ان کے بچے و بھائی یورپ اور امریکہ کے سیر سپاٹوں پر جا کر عیاشیاں کریں، کیا یہ حلال ہے؟ دوسروں کے بچوں کو جہاد اور اپنوں کو یورپ اور ترکی بھیجنے کی پالیسی اب نہیں چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کو اب مسترد شدہ لوگ یاد آ رہے ہیں، جب وہ پی ڈی ایم حکومت میں تھے تو گورنر کس کو لگایا تھا؟ آج جب اقتدار اور حکومت میں حصہ نہیں ملا تو انہیں تمام تر اعتراضات یاد آ گئے، مولانا فضل الرحمان اپنی جگہ ہیں لیکن ان کی وجہ سے صوبے کے عوامی کاموں کو روکا نہیں جا سکتا۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ افغانستان، بھارت اور اسرائیل کی سہولت کاری کر رہا ہے اور وہاں کی سرحد پار سے ڈرونز بھیجے جاتے ہیں، ریاست کے خلاف جنگ کرنے والوں کے خلاف ریاست خود جنگ کرے گی، ہم دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہر قیمت پر جیتیں گے اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے، گزشتہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کا ساتھ نہیں دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت خیبر پختونخواہ پولیس کو 10 ہزار نہیں بلکہ 17 ہزار خالی آسامیوں کا سامنا ہے، جنہیں بہت جلد شفاف طریقے سے پر کر لیا جائے گا، پولیس فورس کو مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی اور انہیں جدید ترین اسلحے سے لیس کیا جائے گا، صوبے میں قیامِ امن کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں گے اور اس جنگ کو مکمل پولیٹیکل اونرشپ بھی دی جائے گی، گزشتہ حکومت کے اچھے کاموں کو روکا نہیں جائے گا بلکہ انہیں جاری رکھا جائے گا۔
صوبائی انتظامیہ میں کرپشن پر بات کرتے ہوئے گورنر نے انکشاف کیا کہ محکموں میں کئی جگہوں پر کک بیکس کا چکر ہے، فائنانس میں 12 فیصد کی کٹوتی پر بلز پاس کیے جاتے تھے، متعلقہ ڈیپارٹمنٹس اس کی تفتیش پر لگے ہوئے ہیں اور جیسے ہی ٹھوس ثبوت سامنے آئیں گے انہیں عوام کے سامنے رکھا جائے گا، جب تک جزا و سزا کا سخت نظام قائم نہیں ہوتا، یہ ملک اور صوبہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔





