Roze News

گورنر نہیں، صدر اور وزیراعظم کے عہدے کا مطالبہ کروں گا، مولانا فضل الرحمان

گورنر نہیں، صدر اور وزیراعظم کے عہدے کا مطالبہ کروں گا، مولانا فضل الرحمان

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

پاکستان کو خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیاں بنانی چاہئیں، مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پریس بریفنگ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد بنائی جانے والی کونسل میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا دہشت گردی کو جواز بنا کر صوبے کے معدنی ذخائر پر قبضہ کرنا اصل مقصد ہے۔ میری کردار کشی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے میں اگر مطالبہ کروں کا تو گورنر کا نہیں بلکہ وزیراعظم اور صدر کے عہدے کا مطالبہ کروں گا۔

مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پارٹی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کیا جس میں صوبے کی صورتحال پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ کیونکہ ایسے اقدامات ملک کو سیاسی نقصان پہنچاتے اور اسے کمزور کرتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس طلب کیا جائے اور اراکین کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات، حکومتی حکمت عملی اور اس کے پس منظر سے آگاہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ کے اراکین سے تجاویز بھی لی جائیں کیونکہ قومی مفادات سے متعلق فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین اور قانون کا غلط استعمال کرنا درست نہیں۔ صدر مملکت نے گورنر راج کے معاملے میں نہ قانونی طریقہ کار کی پیروی کی اور نہ اپنے اطمینان کا اظہار کیا، بلکہ دستخط کردیئے۔ کوئی ایک طاقت پاکستان کے مفاد میں فیصلہ نہیں کرسکتی، یہ پوری قوم کا اجتماعی معاملہ ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) کے انضمام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2017 میں آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا، جس کی ان کی جماعت نے اس وقت بھی مخالفت کی تھی۔ اور اب جن علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، وہ سابق فاٹا کے علاقے ہیں اور خدشہ ہے کہ وفاق انہیں دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی قوتوں کی پاکستان کے وسائل تک رسائی کے معاملے پر قوم کو آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے واضح کیا کہ انہیں سرمایہ کاری پر اعتراض نہیں، تاہم یہ سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ فاٹا کے معاملات میں امریکا کیوں دلچسپی لے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے رکاوٹ نہیں ڈالی تھی، اختلاف صرف بیانیے کا تھا۔ انہوں نے بغیر ثبوت الزام تراشی کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیا اور حکومت کی پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔