وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے، اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو ردعمل ان کی جانب سے نہیں بلکہ عوام کی طرف سے آئے گا۔
پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جمہوری ملک میں کوئی غیر جمہوری اقدام کرے گا تو اس پر ردعمل ضرور آئے گا۔ انہوں نے نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، یہ مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتوں اور ججز کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ انہیں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے ڈرایا جا رہا ہے، لیکن اب بات آگے نکل چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبے میں ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس پر عوام کا ردعمل سامنے آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتیں ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرتی ہیں اور ان کی جماعت نے نو ماہ تک انتظار کیا ہے۔ سہیل آفریدی کے مطابق ان کا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج کو یقینی بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتِ حال میں سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت ہے اور یہاں کے عوام نے ہمیشہ بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے وژن کے تحت صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹروے بھی تعمیر کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال ترقیاتی کاموں کا سال ہوگا اور صوبے میں عوامی فلاح کے منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر خیبرپختونخوا کے اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لڑائی گورنر سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو ان کے بقول انہیں اس مقام تک لے کر آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں سیاسی معاملات کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شفیع جان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا آج ساتواں دن ہے، قافلے چارسدہ میں موجود ہیں جہاں سے آج مردان روانگی ہوگی اور رات وہیں قیام کیا جائے گا۔

Leave feedback about this