اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی بہنوں کی سیاست نہ ہوتی تو نومبر 2024 تک پی ٹی آئی کے بانی کو رہا کر چکا ہوتا۔ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں اور بشریٰ بی بی کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کی جگہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو رکھا گیا ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں وفاداری وائی فائی کی طرح ہے جو سگنل مضبوط ہونے پر آپس میں جڑ جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو عمران خان کی بہنوں کی مداخلت سے محفوظ ہو۔ مجھے علیمہ خانم سے کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ اپنا مؤقف دیا جو ان سب سے مختلف تھا، میں بانی پی ٹی آئی کو جو بھی سچ سمجھتا تھا کہتا تھا، جب میں ان سے ملنے اڈیالہ جیل گیا تو پارٹی کے جاسوس میرے اردگرد موجود تھے۔
رکن قومی اسمبلی نے تجویز دی کہ عمران خان کی بہنیں ایسی باتیں کریں جس سے پارٹی کو فائدہ ہو، اگر بہنوں کی سیاست نہ ہوتی تو نومبر 2024 تک بانی کو رہا کروا لیتے، علیمہ خانم کا سب سے بڑا ہدف بیرسٹر گوہر ہیں۔
8 فروری کی ہڑتال کے حوالے سے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ دو دن رہ گئے ہیں اور اب مشعل بردار ریلی کا اعلان کر رہے ہیں، پارٹی نے اچھا فیصلہ کیا ہے کیونکہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کا پتہ نہیں چلنا تھا، مجھے احتجاج کی کامیابی کی کوئی امید نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پشاور میں مشعل کا ریلے بڑا ہو گا اور دوسرے شہروں میں بھی ہو سکتا ہے۔ 8 فروری کے احتجاج سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ حکومت اس دن بسنت پر پتنگ بازی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

Leave feedback about this