راولپنڈی: ترلائی کے علاقے میں امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے جب کہ متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔
امام بارگاہ سے ملحقہ گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ خودکش حملہ آور کی لاش تاحال امام بارگاہ میں موجود ہے۔
پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جب کہ آئی جی اسلام آباد نے اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کردی، متعدد زخمی جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ پمز اور پولی کلینک کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت کی تحقیقات کر رہا ہے۔ رینجرز اور پاک فوج کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے۔
زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سنٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ کام کر رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 23 افراد کو پمز اور 11 کو پولی کلینک اسپتال منتقل کردیا گیا، زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں لائے گئے متعدد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچ گئے۔ وزیر مملکت نے دھماکے میں زخمی ہونے والے مریضوں کی عیادت کی جو زیر علاج ہیں۔
طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کو خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زخمی مریضوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے ترلائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدیجہ الکبریٰ مسجد میں ہونے والے افسوس ناک دھماکے اور بے گناہ نمازیوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور درد میں مبتلا ہیں۔

Leave feedback about this