پاکستان تازہ ترین دنیا

بنگلہ دیش نے بھارت کے بجائے پاکستان کو طبی علاج کے لیے متبادل ملک قرار دے دیا، ویزا اور فضائی سہولیات کا مطالبہ کردیا

بنگلہ دیش نے بھارت کے بجائے پاکستان کو طبی علاج کے لیے متبادل ملک قرار دے دیا، ویزا اور فضائی سہولیات کا مطالبہ کردیا

بنگلہ دیش نے بیرون ملک علاج کے لیے جانے والے اپنے تقریباً 8 لاکھ مریضوں کے لیے بھارت کے متبادل کے طور پر پاکستان کو طبی سہولیات کا ممکنہ مرکز قرار دیتے ہوئے ویزا سہولت، بہتر فضائی رابطوں اور پاکستانی اسپتالوں تک آسان رسائی کی خواہش ظاہر کردی۔

بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری اور وزیراعظم کے صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر و نیشنل ہیلتھ ٹورازم ورکنگ گروپ کے چیئرمین محمد ارشد قیم خانی سے ملاقات کے دوران بتایا کہ بنگلہ دیش کے تقریباً 8 لاکھ شہری ہر سال علاج کی غرض سے بیرون ملک جاتے ہیں اور طبی سہولیات پر 6 ارب ڈالر سے زائد خرچ کرتے ہیں۔

ملاقات میں بنگلہ دیشی مریضوں کے لیے پاکستان کے میڈیکل ٹورازم کے امکانات، ویزا سہولت، فضائی رابطوں اور پاکستانی اسپتالوں تک رسائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بنگلہ دیشی حکام نے مریضوں کے لیے ویزا عمل آسان بنانے، فضائی رابطے بہتر کرنے اور مناسب طبی سہولیات تک رسائی کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کی درخواست کی۔

وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری نے بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کو پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وزارت متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر بنگلہ دیشی مریضوں کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

دونوں ممالک نے صحت کے شعبے میں تعاون، میڈیکل ٹورازم اور یونیورسل ہیلتھ کوریج کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنے کی غرض سے مجوزہ پاکستان، بنگلہ دیش ہیلتھ کوآپریشن مفاہمتی یادداشت کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

پاکستان نے بنگلہ دیش میں اپنے معروف اسپتالوں اور خصوصی طبی مراکز کو متعارف کرانے کے لیے ہیلتھ کیئر روڈ شوز منعقد کرنے کی تجویز بھی دی، اس کے ذریعے پاکستانی طبی اداروں اور بنگلہ دیشی مریضوں کے درمیان براہ راست روابط قائم کیے جائیں گے۔

محمد ارشد قیم خانی نے کہا کہ بنگلہ دیش کے 8 لاکھ بیرون ملک علاج کے لیے جانے والے مریض پاکستان کے لیے میڈیکل ٹورازم کا بڑا موقع ہیں۔ اگر پاکستان اس مارکیٹ کا صرف 25 فیصد حصہ حاصل کرلے تو تقریباً 2 لاکھ بنگلہ دیشی مریض پاکستان میں علاج کراسکتے ہیں، جس سے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ’’ہیل اِن پاکستان‘‘ اقدام کے تحت نیشنل ہیلتھ ٹورازم پالیسی، حکمت عملی اور روڈ میپ تیار کیا جا رہا ہے، تاہم اس شعبے کے فروغ کے لیے آسان ویزا، بہتر فضائی رابطے، اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن، مؤثر مارکیٹنگ اور مریضوں کی سہولت کاری ضروری ہے۔

میڈیکل ٹورازم کے ماہر ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تربیت یافتہ ڈاکٹرز، ماہرین اور ایسے اسپتال موجود ہیں جو کم لاگت میں جدید طبی سہولیات فراہم کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش پاکستان کے لیے میڈیکل ٹورازم کی ایک اہم مارکیٹ بن سکتا ہے، تاہم اس کے لیے منظم بین الاقوامی مارکیٹنگ اور آسان طبی ویزا سمیت دیگر سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image