اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہونے والی بارش نے موسم کا نقشہ بدل دیا، شدید گرمی اور حبس کے ستائے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔ جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں بارش کے بعد درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی اور موسم خوشگوار ہوگیا۔
بارش کے باعث ہوا میں نمی اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آئی، جس سے شہریوں کو طویل عرصے بعد راحت محسوس ہوئی۔ مختلف علاقوں میں بادل چھائے رہے اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث موسم مزید خوشگوار ہوگیا۔
موسم کی تبدیلی کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے خوشگوار موسم کو سراہا، جبکہ پارکوں اور تفریحی مقامات پر بھی لوگوں کی آمدورفت میں اضافہ دیکھا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور حبس کے بعد بارش کسی نعمت سے کم نہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون سرگرمیوں کے باعث بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے گرمی کی شدت میں مزید کمی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے بارش کے بعد خوشگوار موسم پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ دنوں میں موسم مزید بہتر رہے گا۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے مختلف علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال اور اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 20 سے 23 جولائی کے دوران مشرقی اور مغربی دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی جبکہ نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا امکان ہے۔ اتھارٹی نے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ شدید مون سون ہواؤں اور مغربی ہوا کے طاقتور سلسلے کے باعث گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیز بارشیں متوقع ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق ان علاقوں میں فلیش فلڈ، پہاڑی علاقوں میں ہل ٹورنٹس اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے باعث شہری زندگی متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے خاص طور پر دریائے چناب (مرالہ) اور دریائے جہلم (منگلا کے بالائی علاقوں) میں ممکنہ سیلابی ریلوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران اچانک ہونے والی شدید بارشیں پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حکومتی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave feedback about this