غیرقانونی افغان باشندوں کے خلاف دنیا بھر میں کارروائیاں تیز، مختلف ممالک میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
دنیا کے مختلف ممالک میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ حالیہ گرفتاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی ممالک اب غیرقانونی موجودگی کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
غیرقانونی افغان شہری پاکستان سمیت مختلف ممالک کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جس کے باعث امیگریشن قوانین پر عملدرآمد مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
افغان جریدے کے مطابق پولینڈ میں 71 غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا، جن میں متعدد افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ پولش بارڈر گارڈز کے مطابق لتھوانیا اور بیلاروس سے ملحقہ علاقوں میں غیرقانونی داخلے اور قیام کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق پولش حکام نے قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد گرفتار افراد کو لتھوانیا کے حوالے کر دیا۔
دوسری جانب افغان انٹرنیشنل کے مطابق ترکیہ کے شہر بولو میں پولیس نے غیرقانونی طور پر مقیم 20 افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ ترک امیگریشن حکام کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 19 ہزار 574 افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق افغانستان میں جاری بحران، غربت اور انسانی حقوق سے متعلق مسائل لاکھوں افراد کی بیرون ملک نقل مکانی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق مختلف ممالک میں بڑھتی ہوئی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ غیرقانونی نقل مکانی کے معاملے پر عالمی سطح پر قوانین کا نفاذ مزید سخت ہو رہا ہے، جبکہ تارکین وطن کے مسائل کے حل کے لیے قانونی راستوں اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

Leave feedback about this