پاکستان تازہ ترین معیشت و تجارت

کروڈ آئل کی قیمت مزید گر گئی، پاکستان میں پٹرول، ڈیزل 28 فروری سے پہلے والی سطح پر جائیں گے؟

کروڈ آئل کی قیمت مزید گر گئی، پاکستان میں پٹرول، ڈیزل 28 فروری سے پہلے والی سطح پر جائیں گے؟

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بند کرنے کے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر دستخط ہوتے ہی کروڈ آئل کی قیمت مزید گر گئی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد خام تیل کی انترنیشنل مارکیٹ میں قیمت مزید گر گئی ہے ۔

آج جمعرات کے روز نیویارک میں کروڈ آئل کی مارکیٹ میں  اس معاہدے کے نتیجے میں برینٹ کروڈ اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمتوں میں تقریباً 3 سے 5 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکہ کا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  کرود  3.80 فیصد سستا ہو گیا اور آج ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت  73.93 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔

لندن برینٹ آئل کی قیمت  3.30 فیصد کم ہوکر 76.96 ڈالر فی بیرل تک گرگئی۔

28 فروری کو  امریکہ ایران جنگ کے آغاز سے پہلے  ڈبلیو ٹی آئی 67 اور  لندن برینٹ آئل 72 ڈالر فی بیرل  پر فروخت ہو رہا تھا۔ جنگ کے پہلی ہی روز قیمت میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جو بعد مین مزید بڑھتی گئی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بند کرنے کے عبوری معاہدے (ایم او یو) پر دستخط   ہونے کے بعد عالمی تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے جس سے قیمتوں میں نمایاں کمی ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

معاہدے کے تحت خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے کمرشل بحری جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل آمدورفت دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں، جس سے تیل کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور ہوئی ہیں۔

اس ایم او یو کے بعد خلیج فارس کے کئی ملکوں سے اور اس کے ساتھ ہی ایران سے کروڈ آئل کی انٹرنیشنل مارکیت  میں دوبارہ انٹری اور سپلائی بڑھنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ ان توقعات کی وجہ سے دو روز کے دوران کروڈ کی قیمتیں کم ہوئیں اور ابھی ان قیمتوں میں مزید کمی ہونے کی توقع کی جا رہی ہے

کروڈ کی قیمت 28 فروری سے پہلے والی سطح پر جا سکتی ہے اور اس سے کچھ نیچے بھی جا سکتی ہے کیونکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران دنیا مین کروڈ آئل کی کنزمپشن میں قدرے کمی دیکھی گئی ہے۔ اگر کروڈ کی سپلائی مکمل بحال ہو گئی تو ڈیمانڈ قدرے کم رہنے کے سبب اس کی قیمت 28 فروری سے پہلے والی سطح سے بھی نیچے ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد دو ہفتے تک وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی کنزیومر پرائس کم رکھنے کی کوشش کی اور امپورٹڈ تیل  کی اضافی کاسٹ کا بوجھ کنزیومرز پر ڈالنے سے روکنے کے لئے خود  اربوں روپے سبسڈی دی۔ بعد میں جب وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھانے کی منظوری دی تو اس کے ساتھ ہی خود بھی پٹرول اور ڈیزل  پر لیوی بڑھا دی۔ اس کے نتیجے میں جو کنزیومر پرائس طے ہوتی رہی۔ وہ کروڈ آئل کی قیمتیں گرنے کے بعد کم تو ہو گی لیکن  28 فروری سے پہلے والی سطح پر بہرحال نہیں گرے گی کیونکہ حکومت کی عائد کردہ لیوی برقرار ہے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image