سعودی عرب نے خفیہ اطلاع دینے والوں، گواہوں اور متاثرین کے تحفظ کے لیے نئے پروگرام کا آغاز کردیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام گواہوں کے تحفظ کے قانون کے تحت قائم کیا گیا ہے جو پبلک پراسیکیوٹر کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔
اس کا انتظام کمیٹی کے سپرد ہے جس میں پبلک پراسیکیوشن، وزارت داخلہ، پریذیڈنسی آف اسٹیٹ سیکیورٹی اور اوور سائیٹ اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی (نزاہا) کے نمائندے شامل ہیں۔
سرکاری گزٹ ‘ام القریٰ’ میں شائع ہونے والے نفاذ کے قواعد و ضوابط کے مطابق عدالتیں ایسے مقدمات میں مدعا علیہان اور ان کے وکلاء سے ہٹ کر گواہوں کے بیانات اور ماہرین کی آراء سن سکتی ہیں جہاں ملزمان سے گواہوں کو خطرہ ہو، یا جہاں مقدمہ ایسے منظم مجرمانہ گروہوں سے متعلق ہو جن کے تمام ارکان ابھی گرفتار نہ ہوئے ہوں۔
انہی حالات میں یہ قواعد عدالت کے فیصلوں سے گواہوں کی شناخت کو پوشیدہ رکھنے کی اجازت بھی دیتے ہیں۔
حفاظتی اقدامات میں جگہ کی تبدیلی، محافظ، عارضی شناختی دستاویزات، متبادل پتے، نگرانی اور مانیٹرنگ کے آلات، اور تحریری رضامندی کے ساتھ سکیورٹی حکام کے ذریعے زیرِ تحفظ شخص کی گفتگو اور رابطوں کی نگرانی شامل ہو سکتی ہے۔
تحفظ کے لیے درخواستیں ریگولیٹری اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تحقیقاتی حکام یا عدالتوں کے ذریعے جمع کروا سکتے ہیں۔ درخواستیں براہ راست پروگرام کی انتظامیہ کو بھی دی جا سکتی ہیں۔
حکام خطرے کی شدت، فراہم کردہ معلومات کی اہمیت، متعلقہ شخص کی صحت اور سماجی حالات، اور اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا خاندان کے ارکان یا قریبی ساتھیوں کو بھی کوئی خطرہ لاحق ہے یا نہیں۔

Leave feedback about this