پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے 15 اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جسے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چین کے وزیرِ اعظم لی چیانگ نے شرکت کی اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
تقریب کے دوران اقتصادی ترقی، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، زراعت، تجارت، میڈیا، سائنس و ٹیکنالوجی، انسداد دہشت گردی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ اقتصادی ترقیاتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور چینی قومی ترقی و منصوبہ بندی کمیشن کے ڈائریکٹر ژینگ سانجی نے دستخط کیے۔
ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کے معاہدے پر چین کے وزیر ماحولیات ہوانگ رنچیانگ اور پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے دستخط کیے، جبکہ ویٹرنری ویکسین عطیہ کرنے سے متعلق دستاویز پر وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور چینی وزیر زراعت ژانگ ژو نے دستخط ثبت کیے۔
دونوں ممالک کے درمیان خشک میوہ جات اور مکئی کی برآمدات سے متعلق قرنطینہ اور نباتاتی صحت کے تقاضوں پر بھی اہم پروٹوکولز طے پائے۔ اس کے علاوہ مطابقتی جانچ، آزاد تجارت اور کثیرالجہتی تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
میڈیا کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے شنہوا نیوز ایجنسی اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور شنہوا کے صدر فو ہوا نے دستخط کیے، جبکہ چائنا میڈیا گروپ اور پاکستان ٹیلی وژن کے درمیان مشترکہ ڈاکیومنٹری پروڈکشن کے معاہدے پر بھی اتفاق ہوا۔
سائنس و ٹیکنالوجی، عوامی تبادلوں، زرعی ترقی، انسداد دہشت گردی کے آلات، انسانی وسائل کی ترقی اور تعلیمی اداروں کے مابین تعاون کے معاہدے بھی اس موقع پر طے پائے۔ تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی اور یہ معاہدے خطے میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے نئے دروازے کھولیں گے۔

Leave feedback about this