حالیہ امریکہ ایران تنازہ ایک نیا موڑ اختیار کر چکا ہے اس جنگ نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، مختصر جنگ بندی کے بعد مشرق وسطی میں ایک بار پھر جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے ہر گزرتے وقت کے ساتھ اس جنگ کے شعلے سرد ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں حتمی فیصلے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
امریکہ کا ایران پر طاقتور مگر مختصر حملوں کا نیا منصوبہ بنا رہا ہے اس منصوبے کا مقصد ایران پر آخری اور فیصلہ کن ضرب لگانا ہے جبکہ ایران نے اپنے دو ٹوک پیغام میں یہ بات واضح کر دی ہے کہ امریکہ کی ایٹمی پروگرام ختم کرنے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی
جبکہ دوسری جانب آبنائے ہرمز کی طویل ناکہ بندی کے باعث عالمی معیشت لرز اٹھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح کو چھو گئی
ان تمام حالات کے پیش نظر ایک بات تو سمجھ آجانی چاہیےکہ جہاں تک ایران کا تعلق ہے اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی قسم کا غیر ضروری دباؤ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، لہذا اب یہ دیکھنا ہوگا کہ حالات کس طرف کروٹ لیتے ہیں۔
ایران جو مذاکرات بھی کرے گا اپنی مرضی سے کرے گا کسی کے بہکاوے میں نہیں ائے گا
اس وقت جنگ بندی کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا کامیاب مذاکرات اس وقت ہو سکیں گے جب جنگ بندی مستقل بنیادوں پر ہو، امن قائم رکھنے کی ضمانت ہو اور جوہری مسئلے پر مذاکرات بعد میں ہوں جب جنگ کا خطرہ ٹل جائے اس کے بدلے آبنائے ہرمز کھل جائے گا اور جہازوں کے آمدورفت شروع ہو جائے گی مگر حالات اس کے برعکس نظر ارہے ہیں
ساری صورت حال میں تبدیلی اس وقت آٸی جب امریکہ نے اپنے نمائندوں کے دورہ پاکستان کو منسوخ کر دیا جونہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہوئی اور چین سے آنے والا ایرانی جہاز پکڑا گیا جس میں صدر ٹرمپ کے مطابق چین کی جانب سے ایران کے لئے تحائف موجود تھے، صورت حال نے رُخ تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ تاہم ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مذاکرات بہتری کی طرف آنے کی بجائے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ وہ بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو آبنائے ہرمز میں دیکھیں تو بغیر کسی وارننگ کے انہیں تباہ کر دیں سو ان تمام حالات میں مذاکرات کا کامیاب ہونا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں۔۔۔
دوسری جانب دیکھا جائے تو پاکستان نے اپنی کامیاب سفارت کاری کی عمدہ مثال قائم کی ہے جس کی عالمی سطح پر داد بھی وصول کی ہے دوسری جانب امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مزید طویل کر دی گئی ہے امریکہ نے اپنی قوت اور عسکریت کا اظہار کرنے کے لیے ہرمز میں جہازوں اور ٹینکروں کے آمدورفت پہرہ بیٹھادیا ہے عالمی منڈی میں اسی وجہ سے غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں
اگر دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز ایک قدرتی گزرگاہ ہے اور عالمی قوانین کے مطابق اس پر کوئی ملک قدغن نہیں لگا سکتا یا راہداری وصول نہیں کر سکتا، مگر حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ایک طرف ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں اور و جہازوں پر ٹیکس وصول کر رہے ہیں، دوسری جانب طویل ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کیا رنگ لاتی ہے؟
اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور ایرانی ٹیکس وصولی ہے جبکہ فرقین اپنے اپنے موقف پر بددستور ڈٹے ہوئے ہیں
دوسری طرف ایران کا ایٹمی پروگرام ہے جو کہ امریکہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے کی اجازت کسی صورت نہیں دے سکتا امریکہ کا اس بات کو لے کر ایک ہی موقف ہے کہ ایران کی یورینیم اس کے حوالے کر دے تاکہ امریکہ اپنی فتح کا اعلان کر سکے جبکہ ایران اصولی طور پر ایٹمی پروگرام ختم کرنے کے لیےتیار ہے مگر ایک مکمل لائحہ عمل اور قانونی سطح پر مذاکرات کے بعد ایک باوقار اور احسن طریقے سے کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہو سکے جبکہ دوسرے معاملات، ایران کا عالمی پابندیوں کے خاتمے اور اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ ہو یا دیگر معاملات ایک گفتگو کے ذریعے طے ہو سکتے ہیں لیکن مذاکرات کے کامیابی کا ایک طے شدہ اصول ہے کے فریقین کی پوزیشن واضح ہو کہ کون فاتح ہے اور کون مفتوح برابری کی سطح پر فریقین کے درمیان معاہدہ نہیں ہو سکتا، تاریخ میں بھی اگر نگاہ ڈالی جائے تو ایسے ہی معاہدے ہوئے امریکہ و جاپان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ، جرمنی اور جاپان کی شکست کے بعد ہی یہ معاہدے ممکن ہوئے تھے۔جنیوا اَمن معاہدہ سوویت یونین کی شکست کے بعد ہی ممکن ہوا تھا۔دوحہ اَمن معاہدہ امریکی فوجوں کی افغانستان میں شکست پر منتج ہوا تھا شملہ معاہدہ بھی پاکستان کی عسکری ہزیمت کے بعد ممکن ہوا تھا،تاریخ کا یہ ایسا سبق ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا، قوموں کے درمیان فیصلے ہمیشہ میدانِ جنگ میں ہی ہوا کرتے ہیں۔ فتح و شکست کا فیصلہ ہمیشہ جنگ کا میدان کرتا ہے ہاں تحریراً یہ سب مذاکرات کی میز پر ممکن ہوتا ہے۔عربوں اور اسرائیل کے درمیان اَمن معاہدے جنگوں میں فیصلے کے بعد ہی ممکن ہوئے ہیں۔ عرب میدان جنگ میں شکست کھا جانے کے بعد ہی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے اور پھر معاہدہ ہوا۔ اوسلو اکارڈ ہو یا ابراہیم معاہدہ یہ سب تحریریں میدانِ جنگ میں لکھی گئیں۔اب امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ میدانِ جنگ میں طے پائے گا، ابھی جنگ کا میدان سجا ہوا ہے کسی ایک فریق کی واضح فتح یا شکست کا فیصلہ نہیں ہوا ہے اس لئے اَمن معاہدہ نہیں ہو پا رہا، اِس وقت بظاہر ایران کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے ہرمز پر قبضہ کر کے ایران نے اپنی برتری ظاہر کی ہے، لیکن امریکہ نے اس کی ناکہ بندی کے ذریعے اپنا عسکری قوت کا مظاہرہ کر رہا ہے امریکہ اب ایک فیصلہ کن جنگ کرنے کے لئے بے تاب نظر آ رہا ہے مگر ایران بھی شکست ماننے کے لئے تیار نہیں، اس وقت پاکستان میں مہنگائی کا جو نیا طوفان آیا ہے اور حالیہ آنے والے دنوں میں آنے کا خدشہ ہے اسکا کارن بھی یہ ہی تنازعہ ہے۔
تحریر:حرا احمد


Leave feedback about this