قومی اسمبلی کے رکن شیر افضل مروت نے اعلان کیا ہے کہ وہ سہیل آفریدی کے بطور وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا انتخاب کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔
ایک بیان میں شیر افضل مروت نے کہا کہ صوبے میں گورننس کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور ہیلتھ سیکٹر سمیت مختلف اداروں میں بے ضابطگیوں کے الزامات عام ہیں۔ ان کے مطابق اسپتالوں میں کم قیمت ادویات کی خرید و فروخت جیسے معاملات تشویشناک ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں علی امین گنڈاپور کی جانب سے اس معاملے پر قدم نہ اٹھانے کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم وہ اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے انتخاب کو چیلنج کریں گے۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ وہ قانونی نکات کی بنیاد پر عدالت سے رجوع کر رہے ہیں اور ان کے مطابق ماضی کے عدالتی فیصلے اس معاملے میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو پارٹی مزید کمزور ہو سکتی ہے، اور ان کے مطابق قیادت کے حوالے سے فیصلوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بعض رہنماؤں کو بااختیار بنانا ضروری ہے، ورنہ تنظیمی ڈھانچہ مزید متاثر ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال میں مزید کشیدگی اور اندرونی اختلافات کے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Leave feedback about this