اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی اورڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک غیر معمولی سیاسی بیان بازی نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 2026 کے فیفا ورلڈ کپ میں ایران کی جگہ اٹلی کو مدعو کیا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے اٹلی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں ایک غیر روایتی اشارہ قرار دیا گیا۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے جارجیا میلونی نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی چار مرتبہ ورلڈ کپ جیت چکا ہے اور اسے “اس قسم کی شرکت” یا کسی غیر معمولی رعایت کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹلی اصولوں کے مطابق کھیلتا ہے اور اپنی کامیابیوں پر فخر کرتا ہے۔
ان کے اس سخت اور پر اعتماد جواب کو عالمی سطح پر ایک مضبوط سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے سیاسی اور کھیلوں کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے نیٹو اتحاد سے متعلق اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام رکن ممالک کو مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو صرف ایک دفاعی اتحاد نہیں بلکہ عالمی سلامتی اور طاقت کا اہم ذریعہ ہے، جسے ہر حال میں متحد رہنا چاہیے۔
میلونی نے خبردار کیا کہ اتحاد میں کسی بھی قسم کی تقسیم یا کمزوری عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے رکن ممالک کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ اہداف پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب انہوں نے مبینہ طور پر اسپین کی نیٹو رکنیت معطل کرنے سے متعلق امریکی دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات اتحاد کی روح کے خلاف ہیں اور ان سے اتحاد کمزور ہو سکتا ہے۔
اطالوی وزیرِ اعظم کے اس مؤقف کو یورپی سیاست میں ایک اہم سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے اتحاد اور استحکام پر زور دیا ہے۔

Leave feedback about this