اسرائیل اور امریکا نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے تباہ کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم روس نے ایک نئی پیشکش کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں امریکا کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے تحت ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یہ تجویز صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطوں کے دوران پیش کی گئی تھی جو تاحال برقرار ہے۔
کریملن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی منڈیوں بالخصوص توانائی اور تجارت کے شعبوں پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔
روس اس سے قبل بھی کئی بار ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنی نگرانی میں لینے کی پیشکش کر چکا ہے، جسے ممکنہ امن معاہدے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کئی نکات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ جس پر صدر ٹرمپ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
Leave feedback about this