پاکستان تازہ ترین

وزیراعظم طارق رحمان کا بنگلہ دیش میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر زور

وزیراعظم طارق رحمان کا بنگلہ دیش میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر زور

بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان نے ملک میں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن بقائے باہمی ایک مستحکم اور خوشحال ریاست کی بنیاد ہے۔

انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز دارالحکومت ڈھاکا کے عثمانی میموریل آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں حکومت کی جانب سے آئمہ، مؤذنین اور مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے لیے مالی معاونت کے ایک پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج اس تقریب میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی صف میں بیٹھے ہیں جو بنگلہ دیش کی روایتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی لوگوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان، ہندو، بدھ، عیسائی، عقیدہ رکھنے والے یا نہ رکھنے والے سب کو مل جل کر امن کے ساتھ رہنا ہوگا۔

تقریب کے دوران باضابطہ افتتاح امام حسین احمد عبداللہ کو اعزازی چیک فراہم کر کے کیا گیا، جو بوگورا بیت الرحمان سینٹرل مسجد کے امام ہیں۔

بعد ازاں وزیراعظم نے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو فعال کیا جس کے ذریعے وظیفے براہِ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جائیں گے۔

طارق رحمان نے بتایا کہ حکومت نے خطیب، آئمہ، مؤذنین اور دیگر مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے لیے مالی معاونت کا نظام متعارف کرایا ہے اور اس پروگرام کو مرحلہ وار پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر شہری کے لیے سماجی اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیراعظم کے مطابق پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں 4,908  مساجد، 990  مندروں اور 144  بدھ خانقاہوں سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 16,992  مذہبی رہنما ماہانہ وظیفہ حاصل کر رہے ہیں جبکہ مزید اداروں کو بھی بتدریج اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کی بھی ریاست اور معاشرے کے لیے ذمہ داریاں ہیں اور اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا کرے تو بنگلہ دیش آئندہ ایک دہائی میں سیاسی اور معاشی طور پر خود کفیل بن سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک مہذب معاشرہ صرف معاشی ترقی سے قائم نہیں ہوسکتا بلکہ دیانت داری، برداشت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری جیسی اخلاقی اقدار بھی ضروری ہیں۔

انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں اخلاقی اور سماجی اقدار کو فروغ دیں تاکہ ایک پُرامن اور تشدد سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

طارق رحمان کا مزید کہنا تھا کہ مضبوط ریاست کے قیام کے لیے شہریوں کو معاشی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانا ضروری ہے، کیونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک مضبوط نہیں رہ سکتی جب تک اس کے عوام کمزور ہوں۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image