تہران :ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خوف اور بے یقینی کی رات گزاری۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد یہ دارالحکومت پر ہونے والی شدید ترین بمباری میں سے ایک تھی۔رپورٹس کے مطابق رات کے وقت جنگی طیاروں نے کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں پر درجنوں بھاری بم گرائے جس سے کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے اور شہری خوفزدہ ہو گئے۔
تہران کے مغربی علاقے میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ابتدا میں تقریباً پندرہ منٹ تک مسلسل ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے درجنوں لڑاکا طیارے ان کے سروں کے اوپر پرواز کر رہے ہوں، پھر کچھ وقفے کے بعد دوبارہ حملے شروع ہو جاتے تھے۔
شہریوں کے مطابق دھماکوں کی شدت سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں جس کے باعث بہت سے لوگ اپنے گھروں کے محفوظ حصوں یا باتھ رومز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق تہران کے علاوہ اصفہان اور کرج سمیت دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ منگل کا دن ایران کے اندر حملوں کے حوالے سے سب سے زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔
شدید بمباری کے باعث بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی تاہم حکام کے مطابق چند گھنٹوں میں بجلی بحال کر دی گئی۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے جنگ کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کے باعث شہریوں کو معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں رہائشی علاقوں، اسپتالوں، اسکولوں اور تاریخی مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ حکومت نے عالمی برادری سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Leave feedback about this