موسم

موسم کروٹ لینے کو تیار!آج سے 27 جنوری تک بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی

موسم کروٹ لینے کو تیار!آج سے 27 جنوری تک بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی

ملک بھر میں شدید سردی کا ایک اور اسپیل داخل ہونے کو تیار ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں بارش، برفباری اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سردی کی موجودہ لہر آئندہ ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور بالائی علاقوں میں آج سے بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید سرد موسم کے باعث پہاڑی اور بالائی علاقوں میں نظامِ زندگی متاثر ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں مزید برفباری اور بارش متوقع ہے جبکہ صوبے میں سردی سے متعلق مختلف حادثات میں اب تک نو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

وادی سوات کے میدانی علاقوں میں بارش کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ مالم جبہ، کالام اور مہوڈنڈ میں برفباری کا سلسلہ رک چکا ہے۔ تاہم غیر معمولی برفباری کے باعث متعدد مقامات پر سڑکیں اور بجلی کی فراہمی تاحال معطل ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بند راستوں کو کھولنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔

شانگلہ کے علاقوں بشام اور پورن میں پندرہ سال بعد برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ الپوری، شانگلہ ٹاپ، اچروسر اور دیگر پہاڑی علاقوں میں تین فٹ تک برف پڑنے سے معمولات زندگی مفلوج ہو گئے ہیں۔ اسی طرح دیر بالا میں ریکارڈ برفباری کے باعث لنک سڑکیں بند اور بجلی کی فراہمی معطل ہے، جس سے مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔

ہزارہ ڈویژن کے اضلاع مانسہرہ، بٹگرام اور وادی کاغان میں برفباری سے بند سڑکوں کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے، تاہم ایبٹ آباد کے علاقے گلیات میں تاحال سڑکیں نہیں کھولی جا سکیں۔ شدید موسم اور پھسلن کے خطرے کے پیش نظر گلیات میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی برقرار ہے۔

محکمہ موسمیات اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا کے مطابق 25 سے 27 جنوری کے دوران مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ ملک میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے تحت چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ عوام اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی 26 اور 27 جنوری کو بارش متوقع ہے، جبکہ مری میں دو فٹ سے زائد برفباری کے بعد موسم صاف ہونا شروع ہو گیا ہے اور دن کے وقت دھوپ نکل آئی ہے۔ اس کے باوجود مری میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور سیاحوں کا کہنا ہے کہ برفباری کے بعد مری کا موسم مزید دلکش ہو گیا ہے۔

گلگت بلتستان میں ایک روز قبل بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے، تاہم شاہراہ قراقرم سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ غذر میں شدید برفباری کے باعث ہر طرف برف ہی برف نظر آ رہی ہے اور راستے بند ہونے سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان کے بیشتر علاقوں بشمول کوئٹہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے گرنے کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کان مہترزئی اور کوژک ٹاپ پر برف جمنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔

ادھر کراچی میں بھی ٹھنڈی ہواؤں نے موسم کو غیر معمولی طور پر سرد بنا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کا موسم کوئٹہ جیسا محسوس ہونے لگا ہے، جس کے باعث لوگ سردی سے بچاؤ کے لیے اضافی اقدامات کر رہے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image