پاکستان کے بالائی علاقوں میں شدید سردی کی لہر نے نظامِ زندگی کو جکڑ دیا ہے، اور برفانی ہواؤں کے باعث درجہ حرارت میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سکردو میں پارہ منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے، جس سے سردی کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے، جبکہ مختلف پہاڑی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔مغربی ہوائیں بالائی علاقوں میں داخل ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں بادل، بارش اور برفباری کا نیا اسپیل شروع ہو گیا ہے۔ استور، بابو سر ٹاپ اور دیگر گردونواح میں وقفے وقفے سے برف پڑ رہی ہے، جس سے سردی مزید بڑھ گئی ہے۔ شدید برفباری کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں، اور آمدورفت متاثر ہونے سے مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔
بالائی علاقوں کے علاوہ قلات اور استور میں منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ میدانی علاقوں میں بھی سردی برقرار ہے۔ اسلام آباد میں پارہ 2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، اور کراچی میں درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی ہے کہ 20 سے 23 جنوری کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بالائی علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کا امکان ہے، جس سے سرد موسم کی شدت برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
موسم کے تجزیہ کاروں نے بتایا کہ اسلام آباد اور کشمیر میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، اور سردی میں اضافہ متوقع ہے۔ پنجاب، بالائی سندھ اور خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں دھند بدستور چھائی ہوئی ہے، جس کے باعث حدِ نگاہ کم اور ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، گرم کپڑے استعمال کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ آئندہ چند روز کے دوران سردی کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

Leave feedback about this