جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی ٹھیک نہیں، عجیب بات یہ ہے کہ افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد بدستور آرہے ہیں، افغانستان سے دہشت گرد آرہے ہیں تو روکو۔
راولپنڈی میں جمعیت علمائے اسلام یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں الیکشن کمیشن کٹھ پتلی بن چکا ہے اورانتخابات کے نتائج تیارکرنے کی بجائے باہرسے آنے والے نتائج پرعمل کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ جے یو آئی اس جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت میں حصہ نہیں لے گی اور اپوزیشن کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گی۔
انہون نے مزید کہا کہ 2 سال قبل ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا گیا تھا مگر آج اسی جعلی مینڈیٹ کے سہارے ملک پر حکمرانی کی جا رہی ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے واضح کیا کہ جے یو آئی اقتدار کی خواہش کے لیے نہیں بلکہ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہے، ایک حلقے کے نتائج بھی الیکشن کمیشن نے خود تیار نہیں کیے اور ایسا کٹھ پتلی کمیشن دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔
مولانا فضل الرحمان نے نئے شامل ہونے والے کارکنان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قافلۂ حریت کو مزید تقویت دے گا اور ملک میں سیاسی شعور و جمہوری بیداری کو فروغ دے گا۔
انہوں نے موجودہ حکومت کو عوامی طاقت کے بجائے جوڑ توڑ کے ذریعے وجود میں لائی گئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی اکثریت عوام کے ووٹ سے آنی چاہیے، نہ کہ مصنوعی طریقے سے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی عوامی مفاد اورآئین کی بالادستی کے لیے کام کرے گی اورعوام کو درست رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ ملک میں شفافیت اور عدلیہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
مولانا فضل الرحمان انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں آنا مقصد نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور جمہوری نظام کی مضبوطی ان کا اصل مقصد ہے جب کہ کنونشن میں مولانا غفورحیدری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Leave feedback about this