بین الاقوامی سیاست میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض دو ریاستوں کے درمیان تنازع نہیں رہتے بلکہ پورے عالمی نظام کی روح کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ اقدام بظاہر اقوام متحدہ کی واضح اجازت کے بغیر کیا گیا ہے۔ اب سوال محض وینزویلا کی خودمختاری کا نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور طے شدہ عالمی نظم و نسق کے مستقبل کا ہے۔
وینزویلا گزشتہ دو دہائیوں سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کی فہرست میں ایک مستقل ہدف رہا ہے۔ اس کی جو وجوہات بارہا دہرائی گئیں، ان میں جمہوریت کی نفی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بدعنوانی سر فہرست ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جس ملک میں بھی امریکہ نے اس بیانیے کو بنیاد بنا کر مداخلت کی، وہاں جمہوریت کم اور تباہی زیادہ آئی۔ ماضی قریب میں عراق، لیبیا اور افغانستان اس کی واضح مثالیں ہیں۔ باقی ملکوں کی طرح وینزویلا کے معاملے میں بھی اصل مسئلہ جمہوریت اور انسانی حقوق کا نہیں بلکہ وہاں موجود دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا، لاطینی امریکہ میں امریکی بالادستی قائم کرنا اور اس خطے میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر پر ہے۔ اس چارٹر کا آرٹیکل 2(4) کسی بھی ریاست کو طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی دینے سے روکتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 2(1) تمام ریاستوں کی برابری کی بنیاد پر خودمختاری کو تسلیم کرتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی طاقتور ملک ان طے کردہ بین الاقوامی اصولوں کو یکسر نظرانداز کر دے تو پھر عالمی قانون کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ وینزویلا نے امریکہ پر کوئی حملہ نہیں کیا، لہٰذا آرٹیکل 51 کے تحت حق دفاعِ کا جواز بھی پیدا نہیں ہوتا۔ اس تناظر میں کسی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی کو قانونی نہیں بلکہ جارحیت قرار دیا جائے گا۔
ایک اور نہایت تشویشناک پہلو کسی ریاستی سربراہ کو گرفتار کرنے یا اس کا ٹرائل کرنے کے تصور سے جڑا ہے۔ بین الاقوامی قانون میں ریاستی استثنا (Sovereign Immunity) ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ کسی ملک کا صدر یا سربراہ حکومت، خواہ اس پر کتنے ہی الزامات کیوں نہ ہوں، کسی دوسرے ملک کے یکطرفہ اقدام کے تحت گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) بھی صرف اسی صورت میں کارروائی کر سکتی ہے جب متعلقہ ریاست خود اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرے یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کی واضح منظوری دے۔ وینزویلا کے معاملے میں یہ دونوں شرائط پوری نہیں ہوتیں۔
یہ صورتحال ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہے۔ اگر آج ایک طاقتور ریاست کسی کمزور ملک کے صدر کو نشانہ بنا سکتی ہے تو کل یہی منطق کسی بھی آزاد ریاست پر لاگو کی جا سکتی ہے۔ اس سے عالمی نظام، طاقت کے توازن کی بجائے طاقت کے جبر میں تبدیل ہو جائے گا۔ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ پیغام ہوگا کہ ان کی خودمختاری محض ایک کاغذی وعدہ ہے۔
وینزویلا پر اس ممکنہ جارحیت کے اثرات بھی معمولی نہیں ہوں گے۔ لاطینی امریکہ کی تاریخ امریکی مداخلتوں سے بھری پڑی ہے۔ چلی، نکاراگوا، کیوبا اور پاناما جیسے ممالک اس کے نتائج بھگت چکے ہیں۔ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام، امریکہ مخالف عوامی ردعمل اور نظریاتی تقسیم میں اضافہ ہوگا۔ یہ صورتحال علاقائی امن کے لیے ایک نیا خطرہ بن سکتی ہے۔
عالمی سطح پر اس اقدام کے اثرات اس سے بھی زیادہ گہرے ہوں گے۔ اگر بین الاقوامی قانون کا اطلاق صرف کمزور ممالک تک محدود ہو جائے اور طاقتور ریاستیں خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگیں تو اقوام متحدہ محض ایک نمائشی ادارہ بن کر رہ جائے گا۔ سلامتی کونسل میں ویٹو کا بے دریغ استعمال پہلے ہی اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا چکا ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کا خاموش رہنا دراصل اس طرزِ عمل کی تائید کے مترادف ہوگا۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ ہم ایک ایسے خطے میں واقع ہیں جہاں طاقت کی سیاست پہلے ہی امن کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ اگر عالمی سطح پر قانون کی بالادستی کمزور پڑتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اصولی بنیادوں پر بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے دفاع میں واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی برادری پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ دوہرے معیار ترک کیے بغیر عالمی امن ممکن نہیں۔ جارحیت خواہ کسی بھی ملک کی جانب سے ہو، اسے جارحیت ہی کہا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی اصلاحات، سلامتی کونسل کے کردار کی ازسرِنو تعریف اور بین الاقوامی قانون کے یکساں اطلاق کے بغیر دنیا مزید عدم استحکام کی طرف بڑھے گی۔
حرف آخر:
آخر میں سوال یہ نہیں کہ وینزویلا میں کیا ہوا یا کیا ہونے والا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اب بھی قانون کے تحت چلنا چاہتی ہے یا طاقت کے اشارے پر؟ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت عارضی فتح دے سکتی ہے، مگر قانون کو روند کر حاصل کی گئی ہر کامیابی آخرکار عالمی انتشار اور تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ وینزویلا کا معاملہ دراصل پوری دنیا کے لیے ایک امتحان ہے۔ مستقبل میں عالمی نظام بین الاقوامی قوانین کے تحت چلے گا یا طاقت کے زور پر، یہ اہم ترین فیصلہ اب عالمی ضمیر نے کرنا ہے۔

Leave feedback about this