وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی مذاکرات میں حصہ لینے سے گریزاں ہیں۔ ان کے بقول، بانی پی ٹی آئی کو ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے نقصان ہونے کا خطرہ ہے، اسی وجہ سے وہ مذاکرات سے دور رہ رہے ہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے اسٹیبشلمنٹ اور پارٹی کے اہم لیڈرز کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کی پیشکش کی ہے، لیکن اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل نہیں آیا۔
اپوزیشن کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ’’اپوزیشن 5 فروری کو ملک میں پہیہ جام کر کے دیکھ لے، اس کے بعد دوبارہ بات کی جائے گی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ حکومت ان کی تحریک کو بہانہ بنا کر انہیں سیاسی طور پر پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی راہیں زیرِ بحث ہیں۔ رانا ثناء اللّٰہ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی عدم شمولیت مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

Leave feedback about this