پاکستان تازہ ترین

کابل میں چائے پینے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کو چھوڑا گیا، سینیٹر اسحاق ڈار

کابل میں چائے پینے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کو چھوڑا گیا، سینیٹر اسحاق ڈار

کس نے سرحد کھول کر دہشتگردوں کو آنے دیا اور جیلوں سے رہا کرایا، تحریک انصاف والے اس سب کے ذمہ دار ہیں، دہشتگردی سے اگراب نہیں تو پھر کب نمٹیں گے؟ نائب وزیراعظم

نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ کابل میں چائے پینے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کو چھوڑا گیا، دہشتگردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کس نے سرحد کھول کر دہشتگردوں کو آنے دیا اور کس نے جیلوں سے رہا کرایا؟ کس نے جیلوں سے دہشتگردوں کو رہا کرایا؟ کس حکومت نے اجازت دی کہ دہشتگردوں کو رہا کیا جائے، تحریک انصاف والے اس سب کے ذمہ دار ہیں۔

کابل میں چائے پینے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کو چھوڑا گیا، دہشتگردی سے اب بھی نہیں تو کب نمٹیں گے؟ وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 232 مخصوص حالات میں صدر مملکت کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

آرٹیکل 232 کی شق (1) کے دوسرے Proviso کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر صدر مملکت اپنی صوابدید پر ایمرجنسی کا اعلان کریں تو اس کی منظوری کے لیے 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں درج مطلوبہ طریقۂ کار پر عمل کیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے آرٹیکل 234 کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت جاری کیا جانے والا اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنا ضروری ہے اور یہ دو ماہ تک نافذ العمل رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اس اعلان کی مدت میں مزید دو، دو ماہ کی توسیع کر سکتا ہے تاہم اس کا مجموعی نفاذ چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔

آرٹیکلز 148 اور 149 کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ آئین کے تحت وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیرونی جارحیت اور اندرونی خلفشار کے خلاف صوبوں کا تحفظ کرے۔ آئین وفاقی حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ امن و امان، عوامی نظم و ضبط یا ملک کی معیشت کو سنگین خطرے سے بچانے کے لیے ہدایات جاری کرے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے آئینی دفعات کی غلط تشریح سے گریز کریں۔ ڈار نے کہا کہ حکومت نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے کی کوشش کی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کا تعاون بھی طلب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران وزیراعظم اور اپوزیشن رہنمائوں کی ملاقات، تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل سیاسی کمیٹی کے قیام اور قیدیوں کے قانونی حقوق اور طبی سہولیات تک رسائی یقینی بنانے کے لیے اقدامات سمیت مختلف تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field