بیرون ملک جانے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز ، ماہرین تعلیم سمیت دیگر پروفیشنلز شامل ہیں، وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چودھری سالک حسین نے تحریری جواب ایوان میں پیش کردیا
قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے تحریری جواب کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے۔ وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین نے وقفہ سوالات کے دوران قومی اسمبلی میں تحریری جواب پیش کیا، جس میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں سے متعلق اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق بیرون ملک جانے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز، ماہرین تعلیم اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہنرمند و پیشہ ور افراد شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کو شیئر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اصل مسئلہ بہترین مواقع کی فراہمی کا ہے۔
اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد ملک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی بیرون ملک منتقلی اور اس کے ملکی معیشت، صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بحث اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ دوسری جانب ماہرین کے مطابق اس رجحان پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ان کی قابلیت کے مطابق روزگار فراہم کیا جائے اور نجی و سرکاری شعبوں میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں بہتری، تحقیق کے لیے وسائل، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں ماہرین کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے اداروں میں کام کرنے کا بہتر ماحول پیدا کرنا بھی اہم ہے۔ اسی طرح آئی ٹی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور نئی ملازمتوں کے مواقع نوجوانوں کو ملک میں رہ کر اپنے مستقبل کی تعمیر کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے سے پہلے بیرون ملک جانے والے افراد کی وجوہات، شعبہ وار اعداد و شمار اور ملکی سطح پر ان کی جگہ پیدا ہونے والے خلا کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

Leave feedback about this