پشاور ہائیکورٹ نے واپڈا ملازمین کو مفت بجلی یونٹس خاتمے کے خلاف دائر درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے مانیٹری الاؤنس دینے کے حکومتی فیصلے کو قانونی قرار دیا،نگران وفاقی حکومت کی جانب سے مفت بجلی کی سہولت ختم کر کے اسے مانیٹری الاؤنس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ قانونی حدود کے اندر تھا،مفت بجلی یونٹس کی فراہمی کوئی مستقل یا اٹل قانونی حق نہیں بلکہ ایک انتظامی رعایت تھی،ایسی رعایت بدلتے ہوئے معاشی حالات اور قومی مفاد کے تحت تبدیل یا ختم کیا جا سکتا ہے، نگران حکومت کا یہ قدم پالیسی کے تسلسل اور انتظامی بہتری کے لئے تھا۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ منتخب حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو جاری رکھنے سے اس کی قانونی حیثیت مزید مستحکم ہو جاتی ہے،یہ تبدیلی آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی خلاف ورزی نہیں،یہ امتیاز کے زمرے میں نہیں بلکہ عام اطلاق کی ایک معاشی اصلاح ہے۔
تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی انتظامات مستقل قانونی حقوق کی شکل اختیار نہیں کر سکتے،متعلقہ حکام اس پالیسی پر عمل درآمد شفاف، منصفانہ اور یکساں طریقے سے یقینی بنائے۔

Leave feedback about this