پاکستان تازہ ترین دنیا

جرمنی میں پاکستانیوںکیلئے ملازمت کے وسیع مواقع، شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی

جرمنی میں پاکستانیوںکیلئے ملازمت کے وسیع مواقع، شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی

 وہ پاکستانی جو بیرون ملک روزگار کی تلاش میں ہیں، ان کے لیے جرمنی میں نرسنگ کے شعبے میں ملازمت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای)کے مطابق عمر رسیدہ آبادی اور اوسط عمر میں اضافے کے باعث جرمنی کو تربیت یافتہ نرسوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

ایسی پاکستانی نرسیں جو مستند ڈپلومہ یا ڈگری رکھتی ہیں، جرمنی میں ملازمت کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔

اس کے لیے سب سے پہلے اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہلیت کی جرمن حکام سے باضابطہ منظوری ضروری ہے۔

بی ای او ای کے مطابق ملازمت کے لیے ڈگری کی منظوری، جرمن زبان سیکھنا اور دیگر شرائط کو پوری کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر حکومت اور صحت کا شعبہ غیر ملکی نرسوں کی بھرتی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جو ملک کے مختلف اسپتالوں، نرسنگ ہومز، بحالی مراکز اور گھریلو نگہداشت کے اداروں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

جرمنی میں نرسنگ کے پیشے کے لیے سرکاری طور پر "پفلیگے فاخ فراؤ” (Pflegefachfrau)، "پفلیگے فاخ مان” (Pflegefachmann) یا "پفلیگے فاخ پرسن” (Pflegefachperson) کی پیشہ ورانہ اسناد استعمال کی جاتی ہیں، جن میں جنرل نرسنگ، بچوں کی نگہداشت اور بزرگ افراد کی دیکھ بھال شامل ہے۔

نرسنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کو اسپتالوں، نرسنگ ہومز، گھریلو نگہداشت، طبی بحالی کے مراکز اور پالی ایٹو کیئر سمیت مختلف اداروں میں ملازمت کے مواقع میسر ہیں۔

ان کی ذمہ داریوں میں مریضوں کی دیکھ بھال، طبی ریکارڈ کی تیاری، علاج سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد، طبی ٹیم کی معاونت، اور روزمرہ ضروریات جیسے ذاتی صفائی، خوراک، نقل و حرکت اور احتیاطی تدابیر میں مریضوں کی مدد شامل ہوتی ہے۔

جرمنی میں نرسنگ ایک باقاعدہ ریگولیٹڈ پیشہ ہے، اس لیے مستقل طور پر کام کرنے کے لیے متعلقہ سرکاری ادارے سے پیشہ ورانہ اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے غیر ملکی نرسنگ ڈگری یا ڈپلومہ کو جرمنی میں تسلیم کرانا لازمی ہوتا ہے۔

اس عمل کے لیے درخواست گزار کے پاس دو راستے موجود ہیں، ایک طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ ادارہ غیر ملکی تعلیمی اسناد کا جرمن معیار سے موازنہ کرے، اگر تعلیمی معیار میں فرق پایا جائے تو امیدوار کو علمی امتحان یا تربیتی مدت مکمل کرنا ہوگی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ امیدوار براہ راست تربیتی پروگرام میں داخلہ لے، جس سے منظوری کا عمل نسبتاً تیز اور کم اخراجات والا ہو جاتا ہے، تاہم اس صورت میں سابقہ تجربے اور اضافی تربیت کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔

حکام کے مطابق امیدواروں کو جرمن زبان پر بھی عبور حاصل ہونا چاہیے اور کم از کم بی ٹو سطح کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ جسمانی اور ذہنی صحت کا میڈیکل سرٹیفکیٹ، جبکہ اچھے کردار اور مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونے کا ثبوت بھی فراہم کرنا لازمی ہے۔

یورپی یونین، ناروے، آئس لینڈ اور سوئٹزر لینڈ کے شہریوں کو جرمنی میں ملازمت کے لیے ویزا درکار نہیں ہوتا، تاہم دیگر ممالک کے شہریوں کو رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔

جرمن حکام نے واضح کیا ہے کہ نرسنگ کے شعبے کے لیے یورپی یونین بلیو کارڈ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

اگر کسی امیدوار کی پیشہ ورانہ اسناد مکمل طور پر تسلیم نہ ہوں تو وہ غیر ملکی قابلیت کی منظوری کے لیے مخصوص ویزا حاصل کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ریکگنیشن پارٹنرشپ اور اپرچونٹی کارڈ کے ذریعے بھی جرمنی جا کر ملازمت تلاش کرنے اور پیشہ ورانہ منظوری کا عمل مکمل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ امیدوار متعلقہ شرائط پوری کرتا ہو۔

جرمن حکومت نے غیر ملکی نرسوں کی رہنمائی اور ملازمت کے حصول کے لیے متعدد سرکاری بھرتی پروگرام، پلیسمنٹ ایجنسیاں اور پیشہ ورانہ رہنمائی مراکز بھی قائم کر رکھے ہیں تاکہ صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضرورت پوری کی جاسکے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image