سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے اہم ثالثی کا کردار ادا کیا۔
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایران کو 21 اگست تک بین الاقوامی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی اجازت ملنے کی پیش رفت انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف ایران کی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ دنیا کے متعدد ممالک بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو عالمی توانائی منڈی میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور تیل کی فراہمی میں اضافے کے باعث قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان، چین اور دیگر تیل درآمد کرنے والے ممالک بھی اس ممکنہ فیصلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

Leave feedback about this