شہری 235 روپے کا پٹرول 377 روپے میں خریدنے پر مجبور، حکومت کی جانب سے ایک لیٹر پٹرول پر پٹرولیم لیوی اور دیگر مارجز کی مد میں 142 روپے 41 پیسے وصول کیے جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے پٹرول پر عوام سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 235 روپے 37 پیسے بنتی ہے، جب کہ صارفین کے لیے پٹرول کی قیمت 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر مجموعی طور پر 142 روپے 41 پیسے کی لیوی اور مختلف مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔ پٹرول پر پٹرولیم لیوی کی مد میں 116 روپے 08 پیسے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔ سینءر صحافی کی خبر کے مطابق اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا بلکہ 4 روپے فی لیٹر کمی کردی، یہ پوری کہانی نہیں ہے، عالمی منڈی میں 26 روپے فی لیٹر کمی ہوئی، جبکہ حکومت نے پٹرولیم لیوی 91 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 116 روپے کردی، یعنی پٹرولیم لیوی مزید 24 روپے فی لیٹر بڑھادی، اگر حکومت لیوی نہ بڑھاتی تو آج پٹرول 353 روپے فی لیٹر ہوتا۔
” سرکاری دستاویزات کے مطابق بھی پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 24 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر پٹرولیم لیوی 91 روپے 34 پیسے سے بڑھا کر 116 روپے 8 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی کی شرح میں 24 روپے 34 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 68 روپے 93 پیسے فی لیٹر سے کم کر کے 44 روپے 59 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
ایک اور خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، اور جولائی سے مئی کے دوران حکومت نے مجموعی طور پر 1 ہزار 430 ارب روپے سے زائد کی رقم پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے اکٹھی کرلی، 1 ہزار 468 ارب روپے کا مقررہ ہدف پورا ہونے کے بعد مزید تقریباً 1 سو ارب روپے اضافی جمع کیے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عوام سے 373 ارب روپے سے زائد کی پٹرولیم لیوی وصول کی، جولائی سے مئی تک کی 1 ہزار 430 ارب روپے کی مجموعی کلیکشن گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 6 سو ارب روپے کے لگ بھگ زیادہ ہے، رواں مالی سال کے لیے پی ڈی ایل کا کل ہدف 14 سو 68 ارب روپے مختص تھا، تاہم مالی سال کے اختتام تک حکومت اس ہدف سے کہیں زیادہ رقم اکٹھی کر کے نیا ریکارڈ قائم کرے گی۔
معلوم ہوا ہے کہ رواں مالی سال کے مختلف مہینوں میں جمع ہونے والی لیوی کی مد میں جولائی میں 157 ارب روپے، اگست میں 103 ارب 46 کروڑ روپے، ستمبر میں 112 ارب 85 کروڑ روپے، اکتوبر میں 143 ارب 48 کروڑ روپے، نومبر میں 148 ارب 36 کروڑ روپے، دسمبر میں 162 ارب 46 کروڑ روپے، جنوری میں 108 ارب 76 کروڑ روپے، فروری میں 120 ارب 39 کروڑ روپے، مارچ میں 139 ارب 48 کروڑ روپے، اپریل میں 146 ارب روپے اور گزشتہ ماہ مئی میں ساڑھے 87 ارب روپے جمع کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی سے مئی تک کے عرصے میںدرآمدی پٹرول اور ڈیزل پر لیوی کے ذریعے 686 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد اکٹھے کیے گئے، کروڈ آئل کو مقامی طور پر ریفائن کرنے سے پٹرول اور ڈیزل پر 753 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اکٹھی ہوئی، گزشتہ ماہ مئی کے دوران درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر ساڑھے 50 ارب روپے اور کروڈ آئل کو ریفائن کرنے سے 37 ارب روپے کی پی ڈی ایل اکٹھی ہوئی تھی۔
بتایا جارہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں اس ریکارڈ اضافے کی ایک بڑی وجہ ایرانی پٹرول کی اسمگلنگ پر لگائی جانے والی سخت پابندی ہے، ایف بی آر نے کارروائی کرتے ہوئے 1576 غیر قانونی پٹرول پمپس کو پکڑا اور انہیں باقاعدہ سیل کیا، 1442 پمپس کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ملک میں پٹرول کی اسمگلنگ کم ہوئی اور قانونی پٹرول کی فروخت بڑھنے سے حکومت کی لیوی وصولیاں مزید بڑھ گئیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ فنانس بل کے مطابق حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے سامنے پٹرولیم لیوی کے سخت اہداف رکھے ہیں، آئی ایم ایف نے رواں سال کے لیے 1 ہزار 546 ارب روپے کی پی ڈی ایل اکٹھی ہونے کا تخمینہ لگایا تھا، آئی ایم ایف نے آنے والے نئے مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی کا تخمینہ 1 ہزار 727 ارب روپے لگایا ہے، فنانس بل کی روشنی میں حکومت پاکستان آئندہ مالی سال میں رواں سال کی نسبت 260 ارب روپے اضافی پٹرولیم لیوی اکٹھی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

Leave feedback about this