تازہ ترین دنیا

ایران کو داد دینی چاہیے کہ وہ اندرونی طور پر تقسیم نہیں ہوا، روسی صدر

ایران کو داد دینی چاہیے کہ وہ اندرونی طور پر تقسیم نہیں ہوا، روسی صدر

 روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران کو اس بات پر داد دینی چاہیے کہ وہ اسرائیلی امریکی حملوں کے نتیجے میں اندرونی طور پر تقسیم نہیں ہوا۔

روسی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی سوسائٹی مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، ایرانی قیادت نے عوام سے اپیل کی تھی کہ ملک کے لیے جان قربان کریں اور 50 لاکھ افراد نے وطن پر جان قربان کرنے کے لیے لبیک کہا، یہ ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔

ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ نہ توایران نے کبھی روس سے اسلحہ مانگا اور نہ روس نے ایران کو اسلحہ دیا۔

دریں اثنا، ترک نیوز ایجنسی کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں عالمی خبر رساں اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران کے گرد جاری تنازع ایک عالمی بحران بن چکا ہے، جس نے امریکا کی توجہ یوکرین سے ہٹا دی ہے۔

انھوں نے کہا ’’یوکرین کا بحران مقامی نوعیت کا ہے، جب کہ ایران کے گرد پیدا ہونے والی صورت حال عالمی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ’’بنیادی طور پر اسی مسئلے سے نمٹنے پر مجبور ہے۔‘‘

پیوٹن نے تنازع کے دوران ایرانی عوام کے اتحاد اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی تصفیے میں ان کے مفادات کو مدِنظر رکھا جانا چاہیے۔ روسی رہنما نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پالیسیاں کسی سمجھوتے کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

انھوں نے کہا ’’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کوشش مثبت نتیجے پر ختم ہوگی، تنازع رک جائے گا اور اس کا حل نکل آئے گا۔ اگر روس کے بس میں کوئی مدد ہوئی تو ہم ہمیشہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔‘‘

پیوٹن نے ایران کو ایک دوست ملک قرار دیا جس کے ساتھ روس کے قریبی اور بااعتماد تعلقات ہیں، جب کہ اس تاثر کو مسترد کیا کہ روس توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے اس تنازع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ’’جی ہاں، قیمتیں بڑھی ہیں اور ہماری کمپنیاں کسی حد تک فائدہ اٹھاتی ہیں، لیکن یہ عارضی اور مختصر مدت کا فائدہ ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ تنازع جلد از جلد ختم ہو۔‘‘

روسی صدر نے کہا کہ موجودہ بحران نے فلسطین کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا ایران اور آبنائے ہرمز کے گرد پیش آنے والے واقعات کے باعث فلسطین کا المیہ کسی حد تک فراموش کر دیا گیا ہے، مگر وہ کہیں گیا نہیں ہے۔

 

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image