آٹھ بچوں کا باپ جو دوسروں کی خاطر ہنس کر گولی کھا گیا: سان ڈیاگو مسجد کے ہیرو گارڈ کی داستانِ شجاعت ایک ایسے شخص کی کہانی جس نے دوسروں کے بچوں کو گلے لگانے کا موقع دینے کے لیے اپنی جان قربان کر دی
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی مسجد میں حملہ آوروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ کے قریبی دوست نے ان کی زندگی اور بہادری کے آخری لمحات کا احوال بتایا، جسے سن کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
چار سال سے گارڈ کے گہرے دوست سیم حمیدہ نے روتے ہوئے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ امین عبداللہ کوئی عام سیکیورٹی گارڈ نہیں تھے بلکہ آٹھ بچوں کے شفیق باپ اور اپنے پورے معاشرے کا درد رکھنے والے ایک بہترین انسان تھے۔ انہوں نے مسجد کے اندر موجود معصوم بچوں اور نمازیوں کو بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
سیم حمیدہ کا کہنا تھا کہ جب بھی آپ امین عبداللہ کے پاس سے گزرتے، وہ ہمیشہ آپ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتے تھے، ان کے اندر ہمیشہ ایک مثبت توانائی ہوتی تھی کہ سب اچھا ہوگا، وہ اللہ پر پختہ یقین رکھنے والے اور انتہائی مہربان انسان تھے۔
مسجد کی عمارت کے اندر ہی چھوٹے بچوں کا ایک اسکول بھی واقع ہے جہاں نرسری سے لے کر تیسری جماعت تک کے بچے پڑھتے ہیں، اور واقعے کے وقت سیم حمیدہ کا اپنا منجھلا بچہ بھی اسی اسکول کی کلاس میں موجود تھا۔
سیم حمیدہ نے بتایا کہ روزانہ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی میں یا میری بیوی بچے کو اسکول چھوڑنے آتے، وہ امین عبداللہ بھاگ کر ہماری گاڑی کے پاس آتے تھے۔ واقعے والی صبح بھی انہوں نے میری بیوی سے کہا تھا کہ امین کو میرا سلام کہنا۔
سیم حمیدہ نے انتہائی غمگین لہجے میں کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ اس کا الوداعی سلام تھا، اس بات نے میرے دل کو چیر کر رکھ دیا ہے۔
جب فائرنگ کی خبر ملی تو اپنے بچے کی ٹیچر کو فون کرنے کے بعد، سیم حمیدہ نے دوسری کال اسی سیکیورٹی گارڈ کو کی تھی کیونکہ انہیں امید تھی کہ وہ سب ٹھیک کر دے گا۔
سیم حمیدہ نے اپنے دوست کی بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ جانتا تھا وہ بچوں کی خاطر اپنی جان قربان کر رہا ہے، کیونکہ اگر وہ آگے بڑھ کر اپنے سینے پر گولی نہ کھاتا تو حملہ آور بڑی آسانی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر بچوں تک پہنچ جاتے۔
انہوں نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا کہ بس یہ سوچ کر ہی دل خون کے آنسو روتا ہے کہ دنیا میں ایسا انسان بھی موجود تھا جو دوسروں کے بچوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہو گیا تاکہ دوسرے والدین اپنے بچوں کو گلے لگا سکیں، لیکن اب وہ خود کبھی گھر واپس نہیں جائے گا بلکہ اس کے اپنے آٹھ معصوم بچے اسے مٹی تلے دفنائیں گے، یہ دکھ ناقابلِ برداشت ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر پر ہونے والے مہلک حملے میں جان کا نذرانہ دیکر نمازیوں کی جان بچانے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبد اللہ کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 52 سالہ امین عبداللہ مسجد کے داخلی حصے پر سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے جب دو نوجوان حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کردی۔
پولیس اور عینی شاہدین نے بتایا کہ امین عبد اللہ نے نہ صرف حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی بلکہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر نمازیوں اور اسکول کے بچوں کو بروقت خبردار کیا جس سے درجنوں جانیں بچ گئیں۔
مسجد انتظامیہ اور شہریوں کی جانب سے شہید امین عبداللہ کے اہلِ خانہ کے لیے شروع کی گئی فنڈ ریزنگ مہم میں چند گھنٹوں میں ہی تقریباً 14 لاکھ ڈالر جمع ہوگئے۔
فنڈ ریزنگ صفحے پر لکھا تھا کہ امین عبد اللہ صرف ایک گارڈ نہیں تھے بلکہ مسجد میں آنے والے ہر شخص کے لیے وہ پہلی مسکراتی ہوئی شخصیت تھے اور خطرے کے وقت آخری دفاعی دیوار بھی ثابت ہوئے۔
فنڈ ریزنگ کی یہ مہم اسلامی کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم پر اب بھی جاری ہے جسے دنیا کا بڑا مسلم فنڈ ریزنگ پلیٹ فارم قرار دیا جاتا ہے۔
امین عبد اللہ 8 بچوں کے والد تھے۔
ان کے قریبی دوست نے سی این این کو بتایا کہ امین عبد اللہ جب بھی ملتے، چہرے پر مسکراہٹ ہوتی۔ ہر کسی کو مثبت توانائی دیتے تھے۔ ان کا ایمان بہت مضبوط تھا اور وہ ہمیشہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے تھے۔
امین عبد اللہ کے دیگر دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ کمیونٹی میں انتہائی مقبول تھے اور مسجد آنے والے بچوں، بزرگوں اور نئے مسلمانوں کے ساتھ خاص شفقت رکھتے تھے۔
مقامی مسلم رہنماؤں نے بتایا کہ امین عبداللہ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مسجد سے وابستہ تھے اور سیکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
اسلامی اسکالر عثمان ابن فاروق نے بتایا کہ امین عبد اللہ معصوم لوگوں کا دفاع کرنا چاہتے تھے اسی لیے انھوں نے سیکیورٹی کا شعبہ اختیار کیا تھا۔”
پولیس چیف نے بتایا کہ امین عبداللہ نے حملے کے دوران بہادرانہ کردار ادا کیا۔ جب دو نوجوان حملہ آور مسجد کے باہر فائرنگ کررہے تھے تو امین عبداللہ نے فوراً وائرلیس ریڈیو کے ذریعے مسجد اور اسکول کے عملے کو خبردار کیا کہ دروازے بند کردیے جائیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ان کی بروقت وارننگ کے بعد اساتذہ نے کلاس رومز لاک کردیے جس سے تقریباً 200 بچے محفوظ رہے۔
عینی شاہدین کا یہ بھی بتایا کہ امین عبداللہ نے اپنی بندوق نکالنے کے بجائے پہلے ریڈیو کے ذریعے خطرے کا پیغام دینے کو ترجیح دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچایا جاسکے۔
پولیس چیف نے بھی اعتراف کیا کہ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ امین عبد اللہ کے اس اقدام نے درجنوں قیمتی جانیں بچائیں۔
سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے امین عبداللہ کو ’’شہید‘‘، ’’ہیرو‘‘ اور ’’بچوں کا محافظ‘‘ قرار دیا۔ ریڈٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر لوگوں نے لکھا کہ امین عبداللہ نے اپنی جان بچانے کے بجائے دوسروں کی حفاظت کو ترجیح دی اور یہی ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
واضح رہے کہ سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر پر دو مسلح نوجوانوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 3 افراد کو شہید کردیا اور پھر خود بھی خودکشی کرلی۔
Leave feedback about this