امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ہفتے پاکستان آمد کے قوی امکانات ہیں، وہ چین جانے سے پہلے کچھ گھنٹوں کیلئے پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو چین کا دورہ کریں گے، جس کی گزشتہ کئی مہینوں سے تیاریاں جاری ہیں ۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں میں اہم بریک تھرو اور بڑے معاہدے ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ چین جانے سے پہلے پاکستان میں رک سکتے ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ نور خان ایئر بیس پر ہی کچھ گھنٹوں کیلئے رکیں اور اہم ملاقاتیں کریں۔ ان کا یہ دورۂ پاکستان ایران جنگ کے حوالے سے بھی اہم ترین سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان دونوں متحارب ملکوں کے درمیان مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ ماہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات بھی ہوئے تھے جن میں امریکہ کی نمائندگی جے ڈی وینس نے کی تھی۔ یہ کسی بھی امریکی نائب صدر کا 2011 کے بعد پہلا دورۂ پاکستان تھا۔
کسی بھی امریکی صدر نےآخری دورۂ پاکستان 2006 میں اس وقت کیا تھا جب افغانستان میں جنگ جاری تھی۔ ایسے میں اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش پاکستان آئے تھے۔ اگر صدر ٹرمپ پاکستان آتے ہیں تو یہ 20 سال بعد کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورۂ پاکستان ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس دورے کے دوران ایران جنگ کے حوالے سے اہم بریک تھرو ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کیلئے بھی بطور ثالث اہم ترین کامیابی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے نہ صرف امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ یہ خطے کا تسلیم شدہ اہم ترین کھلاڑی بھی بن جائے گا۔

Leave feedback about this