اسرائیلی حکام نے ایران کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں تین اسرائیلی فوجیوں اور ایک آبادکار کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پریس ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی داخلی خفیہ ایجنسی اور پولیس کے مشترکہ بیان کے مطابق ملزمان طویل عرصے سے ایران سے منسلک مبینہ ایجنٹس کے رابطے میں تھے اور انہوں نے جان بوجھ کر تہران کے لیے جاسوسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
بیان میں کہا گیا کہ تینوں فوجی اسرائیلی فضائیہ کے ایک ٹیکنیکل اسکول میں تربیت حاصل کر رہے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ ایرانی ہینڈلر کی ہدایات پر فوجی تنصیبات اور دیگر مقامات کی تصاویر بنائیں۔
حکام کے مطابق ملزمان نے ریلوے اسٹیشنز، شاپنگ سینٹرز اور سیکیورٹی کیمروں سمیت مختلف عوامی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مبینہ ایرانی رابطہ کار نے ان افراد سے اسلحہ خریدنے کا بھی مطالبہ کیا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا انہوں نے اس پر عمل کیا یا نہیں۔ چاروں ملزمان پر جمعہ کو حیفہ ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس میں فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق دو اسرائیلی فضائیہ اہلکاروں کے خلاف ایران کے لیے جاسوسی کے مقدمات کی تیاری ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیل میں عام شہریوں اور آبادکاروں کے ایران سے منسلک آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے مبینہ رابطوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی حالیہ کشیدگی کے دوران متعدد مشتبہ عناصر کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق سیکیورٹی ادارے ملک میں تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Leave feedback about this