اگر دنیا کو یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی ایک ساتھ کھڑے ہوئے کوئی تصویر لی گئی، تو یہ منظر ایک نئی تاریخ رقم کر دے گا۔
یہ لمحہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ہونے والی اعلیٰ ترین سطح کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی۔
ایران میں اسلامی انقلاب نے ان دونوں ممالک کے مضبوط سٹریٹجک تعلق کو ناصرف توڑ دیا تھا بلکہ اِن تعلقات پر ایک ایسا مہیب سایہ ڈالا تھا جو آج تک چھایا ہوا ہے۔
ممکن ہے کہ یہ دونوں افراد (جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف) اُس ممکنہ تصویر میں مسکراتے نظر نہ آئیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاید وہ مصافحہ بھی نہ کریں۔
اور شاید اس سے ان دونوں ممالک کے درمیان پیچیدہ تعلق نہ تو زیادہ آسان ہو جائے گا اور نہ ہی کم معاندانہ۔
لیکن یہ ممکنہ تصویر اس بات کا اشارہ ضرور دے گی کہ دونوں فریق دنیا بھر کو متاثر کرنے والی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، مزید اور خطرناک کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم دو ہفتوں کی اس غیر مستحکم جنگ بندی کے دوران وہ ’امن معاہدہ‘ ہونے کا بالکل کوئی امکان نہیں جس سے متعلق صدر ٹرمپ نے پُرامید انداز میں پیش گوئی کی تھی۔ یہ ایسی غیرمستحکم جنگ بندی ہے جس کی شرائط کا اعلان ہوتے ہی ان پر اختلاف شروع ہو گیا تھا اور اس کے نافذ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی خلاف ورزی بھی ہوتی رہی۔
اسرائیل کے اس اصرار پر کہ لبنان میں کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی، آخری لمحے تک ایرانیوں نے سب کو یہ سوچنے پر مجبور کیے رکھا کہ آیا وہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے بھی یا نہیں۔

Leave feedback about this