اپریل 2026 میں متحدہ عرب امارات کو مالی ڈپازٹس/قرض کی واپسی سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں نے پاک–یو اے ای تعلقات پر سوالات اٹھائے، تاہم حکومتِ پاکستان اور دفترِ خارجہ نے ان قیاس آرائیوں کو گمراہ کن قرار دے دیا۔
حکومتِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو میچور ہونے والے مالی ڈپازٹس کی واپسی ایک معمول کی مالی کارروائی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود تجارتی معاہدوں کے تحت کی جاتی ہے۔ اس کا پاک–یو اے ای تعلقات کی مضبوطی یا کمزوری سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جو صرف سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک، معاشی، دفاعی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں۔ ماضی میں پاکستان نے یو اے ای کی مسلح افواج کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا، کمانڈو یونٹس کی تربیت اور دفاعی ڈھانچے کی مضبوطی میں بھی پاکستان کا حصہ رہا ہے۔
یو اے ای میں مقیم تقریباً 16 لاکھ پاکستانی وہاں کی دوسری بڑی غیر ملکی کمیونٹی ہیں، جو نہ صرف معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سماجی اور معاشی پل کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔ پاکستانی محنت کشوں اور ماہرین نے یو اے ای کے انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، سڑکوں، رہائشی منصوبوں اور دیگر شعبوں کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور مذہبی رشتہ بھی نہایت گہرا ہے، مشترکہ اسلامی ورثہ، روایات اور عوامی روابط اس تعلق کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ یو اے ای ہزاروں پاکستانیوں کے لیے دوسرا گھر بن چکا ہے، جہاں وہ سیاحت، کاروبار اور خاندانی روابط کے لیے باقاعدگی سے آتے جاتے رہتے ہیں۔
سال 2024 میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان 3 ارب ڈالر سے زائد کے بڑے سرمایہ کاری معاہدے بھی طے پائے، جن میں انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور تجارت کے شعبے شامل ہیں۔ جبکہ 2025 اور 2026 کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کیا۔
ماہرین کے مطابق، مالی ڈپازٹس کی واپسی جیسے معمول کے اقدامات کو تعلقات کی کمزوری سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور دیرینہ تعاون پر مبنی ہیں۔

Leave feedback about this