اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خودکش دھماکے میں ملوث حملہ آور کے دو بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کے دو بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کا نام یاسر تھا اور اس کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے بتایا جاتا ہے۔
نادرا کے ڈیٹا کی مدد سے حملہ آور کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔ یاسر کی عمر 26 سال تھی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق حملہ آور نے افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی اور متعدد بار افغانستان کا سفر کیا اور کچھ عرصہ قبل افغانستان سے واپس آیا تھا۔
تحقیقات کے دوران پشاور سے یاسر سے متعلق چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حملہ آور کے قومی شناختی کارڈ پر درج پتے والے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 نمازی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ حملہ آور کے سہولت کاروں اور معاونین کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جن میں انسداد دہشت گردی کے افسران بھی شامل ہیں۔

Leave feedback about this