پاکستان

پاکستان ہر شعبے میں ترقی کی راہ پر، وزیراعظم کی قیادت میں ہم آہنگی اور شفافیت کی یقین دہانی

پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف

ڈیووس۔21جنوری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنے اور سماجی اشاریوں کو مسلسل مشترکہ کاوشوں سے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں،ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے،مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے،پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہو گئی ہے،چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں،اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں،کانکنی اور معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے امریکی اور چینی کمپنیوں سے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں،گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں،پی آئی اے کی شفاف نجکاری کے بعد دیگراداروں کی نجکاری کی طرف بڑھ رہے ہیں،بے لوث قربانیوں، ان تھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہے تو بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہاں موجودگی واقعی بہت اعزاز اور خوشی کی بات ہے،پاکستان اب کامیابی کے احساس اور ایک مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے،ہمارے بڑے معاشی اشاریے بہت تسلی بخش ہیں،مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے،ہمارا پالیسی ریٹ انتہائی بلند سطح 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،ہماری آئی ٹی برامدات تسلی بخش رفتار سے بڑھ رہی ہیں، اگرچہ ہماری مجموعی برآمدات مختلف قسم کا چیلنجز کا سامنا کرتی رہی ہیں اور یقیناً ہمارے سماجی اشاریوں کو مشترکہ کاوش سے بہتر بنانے کی ضرورت ہےتاہم آگے بڑھنے کا راستہ بالکل واضح ہے، پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنا ہوگی،ہم نے اپنے نظام میں بنیادی ڈھانچے جاتی تبدیلیاں لائی ہیں، ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں اور اب اسے مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہے جو کہ کچھ سال پہلے نو فیصد تھی، یہ ایک اہم کامیابی ہے،گزشتہ سال ہماری زرعی برآمدات بہت تسلی بخش رہی ہیں،اب ہم کانکنی اور معدنیات کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر داخل ہو چکے ہیں، ہم نے امریکی کمپنیوں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے لا محدود قدرتی وسائل سے نوازا ہے،یہ قدرتی وسائل اب بھی پاکستان کے شمالی پہاڑوں گلگت بلتستان ازاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دفن ہیں،اب ہم نے برق رفتاری سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کرپٹو، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برامدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،اس ضمن میں ہم بہت سے جدید آلات لائے ہیں جنہوں نے آئی ٹی برآمدات کو آسان بنایاہے اور ہماری آئی ٹی برآمدات با ضابطہ طور پر سالانہ تین ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے ، حکومت پاکستان نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں، نیوٹیک وفاقی سطح کا ایک ادارہ ہے جو ہماری نوجوان نسل کو جدید تربیت فراہم کرتا ہے، یہ تربیتی پروگرام غیر جانبدار اداروں سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہیں اور بین الاقوامی طور پر سند یافتہ بھی ہیں، اس کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں بہترین ملازمتیں حاصل کر رہی ہے کیونکہ وہ انتہائی قابلیت کے حامل اور بہترین تربیت یافتہ ہیں اور اپنے شعبے کی بین الاقوامی کمپنیوں سے سند یافتہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں اور اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں، کانکنی اور معدنیات کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تعاون کی امید ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے نیز آئی ٹی اور اے آئی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ بڑے پیمانے پر تعاون کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہم زراعت، صنعت، کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی میں تیزی سے اڑان بھرنے والے ہیں، ہمارا مستقبل بہت امید افزاء ہے، مجھے اس میں کوئی شک نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں کے لیے جو پاکستان کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں، انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، مثال کے طور پر ابھی ہم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کی ہے جو ایک قومی اثاثہ ہے، بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں سے اسے مسلسل خسارےکا سامنا تھا اور اب اسے پاکستان کے نجی شعبے کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے، یہ نجکاری مکمل طور پر شفاف تھی اور نجکاری کے ہر پہلو کو پوری دنیا میں براہ راست دکھایا گیا، اس طرح پوری قوم نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ لین دین کس قدر شفاف تھا اور اس کی شفافیت پر ذرہ برابر بھی کوئی سوال یا اعتراض سامنے نہیں آیا، میرا خیال ہے یہی ہماری پہچان ہے، اب ہم نجکاری کے دیگر اداروں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں جن میں ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، بجلی کے شعبے کی نجکاری، تقسیم کار کمپنیاں ،ترسیلی لائنیں وغیرہ شامل ہیں تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ نہایت سخت آئی ایم ایف پروگرام کے نتیجے میں جس پر ہم نے مکمل اور پوری دیانتداری سے عمل کیا ہے، آئی ایم ایف اب ان دنوں خاصی احتیاط کے ساتھ پاکستان کی کامیابی کی مثال کو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب ہمیں ترقی کی جانب بڑھنا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز سے عام آدمی کو غیر معیاری اشیاء فراہم کی جاتی تھیں، یہ ادارہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور اس سے ہونے والا مالی نقصان ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے کیونکہ پاکستان کے غریب عوام کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی طرح پاسکو کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، یہاں بھی غریب عوام کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے،اسی طرح پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) کو بھی ختم کر دیا گیا، اس دوران مشکلات بھی پیش آئیں، مفاد پرست عناصر کی جانب سے احتجاج کی صورت میں دباؤ بھی آیا لیکن ہم اپنے عزم پر بالکل ثابت قدم رہے کیونکہ اگر ہم یہ اقدامات نہ کرتے تو نہ اپنے ساتھ انصاف ہوتا اور نہ ہی پاکستان کے عوام کے ساتھ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ عمل انتہائی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور میرا خیال ہے کہ جب تک ہم ان مشکل مگر ناگزیر اقدامات کے ذریعے اپنی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو نہ روکتے ہماری معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی، میرا خیال ہے کہ یہ سب اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے ، یہ کامیابیاں مشترکہ محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس کا مطلب سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، اگر ہم اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں چاہے وہ بیرونی ہو یا اندرونی سے نکلنا ہے، اگر ہمیں بے غربت اور بے روزگاری میں کمی لانی ہے اور اگر ہمیں اپنے ملک کو ہر لمحہ خوشحال اور ترقی یافتہ بنانا ہے تو مختلف متعلقہ فریقین کے درمیان ہم آہنگی ،احساس ملکیت اور آگے بڑھنے کے واضح مقصد کا ہونا ناگزیر ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں وہ ترقی کے اعتبار سے اڑان بھرنے ہی والا ہے کیونکہ ہم 24 کروڑ آبادی والا ملک ہیں، ہمارے پاس نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے جو ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی ہے، ہم اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ نوجوانوں کو تمام وسائل اور مواقع مہیا کیے جائیں جو ہمارے ملک کو عظیم بنانے میں مددگار ثابت ہوں، راستے میں چیلنجز بھی آئیں گے، سفر ہموار نہیں ہوگا لیکن جب تک ہم بے لوث قربانیوں، انتھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہیں گے، مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image