گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں کروڑوں افراد اپنی زندگی کا بڑا حصہ گھروں کے اندر گزارنے لگے ہیں۔
اب نہ صرف رہائش بلکہ کام، تفریح اور سماجی رابطے بھی زیادہ تر گھر تک محدود ہو چکے ہیں۔ بظاہر یہ سہولت بخش طرزِ زندگی ہے، مگر اس کے اثرات ہماری صحت پر کس حد تک مرتب ہو رہے ہیں، اس پر غور کرنا ضروری ہے۔
اگرچہ بہت سے لوگ اس معمول کے عادی ہو چکے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق باہر وقت گزارنا اب بھی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ دھوپ اور تازہ ہوا نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ مجموعی تندرستی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم باہر جانا ترک کر دیتے ہیں تو ہمارے جسم اور ذہن پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟
موڈ میں تبدیلی
گھر کے اندر زیادہ وقت گزارنے سے دھوپ کی کمی ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سیروٹونن کی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔ سیروٹونن ایک ایسا کیمیکل ہے جو خوشگوار احساسات اور ذہنی توازن میں مدد دیتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق طویل عرصے تک بند رہنے سے سیروٹونن کی پیداوار کم اور چڑچڑے پن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
نیند اور جاگنے کا نظام متاثر
قدرتی روشنی خصوصاً صبح کے وقت ہماری نیند اور جاگنے کے قدرتی نظام کو درست رکھتی ہے۔ جب انسان دن میں باہر نہیں نکلتا تو میلاٹونن کے اخراج میں بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے، جس کے باعث صبح اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب اسکرینز کی نیلی روشنی کا سامنا زیادہ ہو۔
جسمانی درد میں اضافہ
دھوپ کی کمی سے وٹامن ڈی کی سطح کم ہو سکتی ہے، جو ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق دائمی درد کے مریضوں کی بڑی تعداد میں وٹامن ڈی کی شدید کمی پائی گئی ہے۔
نظامِ ہاضمہ پر اثر
وٹامن ڈی نہ صرف ہڈیوں بلکہ آنتوں کی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔ اس کی کمی سے نظامِ ہاضمہ متاثر ہو سکتا ہے اور دیگر طبی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
کیبن فیور کا خدشہ
طویل عرصے تک محدود جگہ میں رہنے سے ’’کیبن فیور‘‘ نامی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جس کی عام علامات میں اکتاہٹ، بے چینی اور عمومی عدم اطمینان شامل ہیں۔
الرجی میں اضافہ
ماہرین کا خیال ہے کہ کم باہر نکلنے سے الرجی کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ وٹامن ڈی بعض ایسے خلیات کو متحرک کرتا ہے جو الرجی کے شدید ردِعمل کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، اس لیے مناسب حد تک باہر جانا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ذہنی دباؤ میں اضافہ
اکثر لوگ تھکن یا دباؤ کے باعث گھر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فطرت میں وقت گزارنا ذہنی سکون کے حصول کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق قدرتی مناظر، آوازیں اور خوشبوئیں دماغ کو سکون کا پیغام دیتی ہیں اور خوشی کے ہارمونز میں اضافہ کرتی ہیں۔
بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ
جہاں ضرورت سے زیادہ دھوپ نقصان دہ ہو سکتی ہے، وہیں دھوپ کی شدید کمی بھی بعض کینسرز کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق کئی کینسر کے مریضوں میں وٹامن ڈی کی سطح کم پائی گئی ہے۔
یادداشت پر منفی اثر
فطرت میں وقت گزارنا دماغی کارکردگی کے لیے بھی مفید ہے۔ یونیورسٹی آف مشیگن کی ایک تحقیق کے مطابق قدرتی ماحول میں چہل قدمی کرنے سے قلیل مدتی یادداشت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ڈپریشن کا امکان
ماہرِ نفسیات کے مطابق طویل عرصے تک گھر تک محدود رہنا ڈپریشن کی علامات کو بڑھا سکتا ہے۔ وقتی آرام کے برعکس مسلسل غیر فعال طرزِ زندگی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
مسلسل تھکن
وٹامن ڈی کی کمی اور جسمانی سرگرمی میں کمی ذہنی اور جسمانی تھکن کا سبب بن سکتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ قدرتی ماحول میں وقت گزارنے والے افراد زیادہ توانائی محسوس کرتے ہیں۔
موٹاپا اور دیگر بیماریاں
گھر کے اندر زیادہ وقت گزارنے سے سست طرزِ زندگی اپنایا جاتا ہے، جس سے موٹاپا، دل کی بیماریاں اور ذیابیطس جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنا وزن بڑھنے کا ایک اہم سبب ہے۔
نوٹ: یہ مضمون معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق فیصلوں کے لیے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔

Leave feedback about this