گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کو وفاق سے تعاون کرنا چاہیے، ہٹ دھرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حکومت کے طرزِ عمل پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کو اس وقت ٹکراؤ نہیں بلکہ تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کے پی حکومت کو وفاق کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے، ورنہ عوامی مسائل مزید بڑھیں گے۔
گورنر کے مطابق آئین میں گورنر راج کا اختیار واضح طور پر موجود ہے، اور یہ فیصلہ صوبائی حکومت کے رویے پر منحصر ہوتا ہے۔ انہوں نے اس امکان کو خارج نہیں کیا کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو آئینی اختیارات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’جو شخص کہتا تھا کہ گورنر ہاؤس کا پیٹرول بند کر دوں گا، آج وہ کہاں ہے؟‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ایسے نعرے محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ثابت ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی کی قیادت پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص پارٹی اور ملک چلائے، جو آئینی و قانونی طور پر ممکن نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ’’جو شخص سزا یافتہ ہے، اسے اپنی سزا بھگتنی ہوگی۔‘‘
گورنر نے کہا کہ اب فیصلے سڑکوں پر نہیں بلکہ اداروں اور عوام کے ذریعے ہوں گے۔’’اب لوگوں نے فیصلہ کرنا ہے، سڑکوں نے نہیں‘‘
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر گورنر نے خبردار کیا کہ ہٹ دھرمی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس سے صوبے کے انتظامی اور معاشی مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

Leave feedback about this