وائٹ ہاؤس نے چین کی جانب سے امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکہ دہی کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی اشیاء بھارت اور اسرائیل سمیت چالیس سے زائد ممالک کے ذریعے امریکا لائی جاتی ہیں تاکہ ان پر ٹیرف عائد نہ کیا جاسکے اور اسطرح تین سو ارب ڈالر تک بچائے جارہے ہیں۔
اس سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر رپورٹ شئیر کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق جن ممالک سے چینی اشیا کی امریکا غیرقانونی ترسیل کی جاتی ہے ان میں پاکستان شامل نہیں۔
صدر ٹرمپ کے معاون Navarro کی جانب سے تیار رپورٹ کے مطابق غیرقانونی ترسیل کا یہ عمل سن 2018 میں چین پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے بڑھ گیا ہے۔
اس غیرقانونی ترسیل کے لیے چینی سامان کو دوبارہ سے لیبل لگایا جاتا ہے، دوبارہ پیکنگ کی جاتی ہے، تھوڑی بہت دوبارہ پراسسینگ کی جاتی ہے، پھر سے رسیدیں جاری کی جاتی ہیں یا پھر اشیا کا ماخذ ایسے ملک کو ظاہر کیا جاتا ہے جس کا ان چیزوں سے تعلق ہی نہیں ہوتا۔
رپورٹ کے مطابق دیگر ممالک سے اشیا کی ترسیل میں اضافے کے ادوار میں چین سے امریکا براہ راست درآمدات میں کمی نوٹ کی گئی۔
تخمینہ لگایا گیا ہے کہ سالانہ چالیس ارب سے تین سو تین ارب ڈالر کی غیرقانونی ترسیل کی جارہی ہے۔ جن ممالک کو استعمال کیا جاتا ہے ان میں کینیڈا، اسرائیل، یورپی یونین، میکسیکو، جاپان، جنوبی کوریا برازیل، انڈونیشیا، ملائشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار شامل ہیں۔
اس دھوکہ دہی سے امریکا میں ساڑھے چار لاکھ نوکریاں ختم ہوئیں، سالانہ جی ڈی پی اور وفاقی ٹیکس کی مد میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔
امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی توجہ ان خامیوں کو دور کرنے پر فوکس کرلی ہے جن کے ذریعے غیرملکی درآمد کنندگان امریکی ملازمین، مینوفیکچررز اور ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچاکر اپنی اشیا کی امریکا غیرقانونی ترسیل کرتے ہیں۔

Leave feedback about this