ترکی کے بحیرۂ اسود کے ساحل کے قریب تین خام تیل بردار جہازوں پر ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد عالمی شپنگ اور توانائی مارکیٹ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جہاز روسی “شیڈو فلیٹ” کا حصہ بتائے جاتے ہیں، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔ حملے اس وقت ہوئے جب یہ جہاز سمندر میں ایک دوسرے کے ساتھ تیل کی منتقلی کر رہے تھے۔
ترکی کے زیر انتظام دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز 24 مئی کو اسی علاقے میں پہنچے تھے۔
رپورٹس کے مطابق جہاز پر اس سے پہلے مارچ میں بھی حملہ ہو چکا ہے، جب یہ تقریباً 10 لاکھ بیرل روسی کروڈ آئل لے جا رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے حملے عالمی توانائی سپلائی چین کیلئے خطرناک ہیں اور بحیرۂ اسود کے راستے تیل کی ترسیل پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

Leave feedback about this