حکومت پاکستان نے توانائی کے شعبے کو مستحکم بنانے اور ہنگامی حالات میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس منصوبے پر ابتدائی کام شروع کر دیا گیا ہے اور اسے ملکی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ، اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات کو کم کرنا ہے تاکہ ملک کو کسی بھی بحران میں فوری سہارا مل سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کے ایسے ذخائر تیار کیے جائیں گے جو کم از کم نوے دن تک ملک کی ضروریات پوری کر سکیں،اس طرح اگر عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کے پاس متبادل انتظام موجود ہوگا۔
نجی ٹی وی کے مطابق توانائی ماہرین اس منصوبے کو انتہائی ضروری قرار دے رہے ہیں، کیونکہ موجودہ عالمی حالات میں توانائی کی مسلسل فراہمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے،خاص طور پر اہم بحری راستوں میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، جس سے مقامی منڈی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
اس منصوبے کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کے مختلف طریقوں پر غور جاری ہے، ان میں پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ تبدیلی بھی شامل ہے، جس کے ذریعے سالانہ بڑی رقم حاصل کی جا سکتی ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق اس مد میں اربوں روپے جمع ہو سکتے ہیں جو منصوبے کی تکمیل میں مدد دیں گے، ماہرین کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ یہ وسائل مزید بڑھ سکتے ہیں، جس سے نہ صرف ذخائر کا نظام مضبوط ہوگا بلکہ توانائی کے شعبے میں مجموعی استحکام بھی آئے گا،یہ اقدام پاکستان کو مستقبل کے ممکنہ توانائی بحرانوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوگا۔
Leave feedback about this