پاکستان

246 روپے فی لیٹر پیٹرول ہم تک پہنچتے پہنچتے 458 روپے فی لیٹر کیسے ہو جاتا ہے؟

پاکستانی حکومت نے تین ہفتے کے تعطل کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا جواز پیش کرتے ہوئے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا ہے۔

جمعرات کی شب وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے اضافے کا اعلان کیا ہے۔

اس اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 458 روپے 41 پیسے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 520 روپے 35 پیسے ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے وفاقی حکومت نے گذشتہ ایک ماہ کے عرصے کے دوران دوسری مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل چار مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔

اس طرح گذشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 77 فیصد (یعنی 192.23 روپے) جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 87 فیصد (239.49 روپے) اضافہ ہوا ہے

خیال رہے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی فراہمی بڑی حد تک بدستور بند ہے جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ شب قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے ایران تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا حکومت کے پاس ’وسائل محدود ہیں اور فی الحال جنگ کے اختتام کی کوئی صورتحال نظر نہیں آ رہی۔‘

وزیر پیٹرولیم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل بنیادی طور پر آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے اور جن ممالک کے پاس اس کے سٹر یٹیجک ذخائر موجود ہیں وہاں بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image