یمن کے حوثی باغیوں (انصاراللہ) نے تصدیق کی ہے کہ وہ عسکری طور پر ایران کے ساتھ صف بندی کے لیے تیار ہیں۔ سینئر حوثی رہنما نے مزاحمتی ایک بار دھمکی دی ہے کہ ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ مداخلت کے لیے تیار ہیں۔ اس بیان کے بعد خطے میں جنگ کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے ’المیادین‘ کو دیے گئے انٹرویو میں حوثی تحریک کے سیاسی رہنما اور ترجمان محمد البخیتی نے کہا کہ یمن خطے کی مزاحمتی تنظیموں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے، خصوصاً ایران کے ساتھ قریبی ہم آہنگی برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انصاراللہ کے رہنما سید عبدالملک الحوثی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ ’ہماری انگلی ٹریگر پر ہے، اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کے لیے تیار ہیں‘۔
محمد البخیتی نے مزید کہا کہ یمن کی جنگ میں شمولیت کے لیے وقت کا انتظار ہے، اس حوالے سے مکمل رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خطے میں موجود ان امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جہاں سے اس کے خلاف حملے کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یمنی حوثیوں کی جانب سے ایران کی حمایت کے بعد ممکنہ طور پر امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ’باب المندب‘ کو بھی بند کیا جاسکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو بحیرہ احمر آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا، سعودی تیل کی برآمدات اچانک رک جائیں گی اور عالمی تجارت کو ایک اور شدید جھٹکا لگے گا۔
حوثی رہنما محمد البخیتی نے انٹرویو کے دوران کہا کہ اس وقت نشانہ صرف ایران نہیں بلکہ تمام عرب اور اسلامی ممالک ہیں۔ امریکا کو خلیجی ممالک کی سلامتی کی کوئی فکر نہیں بلکہ وہ انہیں ایران کے خلاف جنگ میں الجھانا چاہتا ہے۔
انہوں نے خطے کے تمام ممالک سے فوری طور پر مشترکہ مؤقف اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی جارحیت کی مذمت کرنی چاہیے اور اس محاذ پر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے اور ہمیں اسے اس وقت تک جاری رکھنا ہوگا جب تک ہم اپنی شرائط منوانے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ انہوں نے اس جنگ کو فیصلہ کن معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا انجام حق کی فتح کی صورت میں نکلے گا۔
یمن میں جمعہ کے روز عالمی یوم القدس کے موقع پر ملک بھر میں ہونےوالے مظاہروں میں بھی ایران کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ مظاہرین نے حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ ہفتے کے روز اپنے 15ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
ایران کی مسلح افواج نے جوابی کارروائی کے طور پر ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کے تحت اب تک 48 سے زائد حملے کیے ہیں اور اسرائیلی فوجی تنصیبات اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔

Leave feedback about this