اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسداد بدعنوانی اور انسداد انسانی سمگلنگ ونگ نے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے چار مسافروں کو پرواز سے اتار کر حراست میں لے لیا۔ ایف آئی اے کے دو اہلکاروں کو رشوت کے عوض امیگریشن کلیئرنس دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق دمام جانے والی پرواز کے دوران بتایا گیا کہ چاروں مسافر عمرہ ویزوں پر سعودی عرب جا رہے تھے تاہم اصل مقصد سعودی عرب کو ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کرنا اور مصر اور لیبیا کے راستے یورپ پہنچنا تھا۔
حراست میں لیے گئے مسافروں میں کامران خان، زیاد خان، محمد شعیب اور یاسین خان شامل ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے دوران مسافروں نے انکشاف کیا کہ ایجنٹس یونس خان اور حیات عالم نے انہیں یورپ بھجوانے کے لیے سعودی عرب کے راستے کا منصوبہ بنایا اور خاص طور پر انہیں امیگریشن کاؤنٹر نمبر 13 پر جانے کی ہدایت کی۔
ایف آئی اے کی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ امیگریشن کاؤنٹر کے اہلکار انضمام الحق اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد عالم نے کلیئرنس کے لیے بالترتیب 30 ہزار روپے فی مسافر اور 80 ہزار روپے فی مسافر رشوت وصول کی۔ اینٹی کرپشن ونگ نے دونوں اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، مقدمے میں چاروں مسافروں کو بھی نامزد کیا گیا۔
مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ گزشتہ ہفتے 12 مسافروں کو مبینہ طور پر پیسے لے کر امیگریشن کے لیے کلیئر کیا گیا۔
ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ محکمہ میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایف آئی اے حکام مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملوث ایجنٹوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔

Leave feedback about this