پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے کاروبار کرنے والے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف شعبوں میں سرگرم تقریباً ایک ہزار افغان تاجروں نے کاروباری مراکز، دکانیں اور رہائشی مکانات چھوڑ کر وطن واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
واپسی کرنے والے مہاجرین میں موبائل اور الیکٹرانکس کے تاجران، کپڑوں کے کاروباری، ہوٹل اور تندور مالکان، میڈیکل اور دوا کے شعبے سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صوبے بھر میں 500 سے زائد نجی کلینک اور میڈیکل سنٹرز بند ہو چکے ہیں، تقریباً 30 شادی ہالز اور 250 نجی تعلیمی ادارے بھی عارضی طور پر بند ہیں۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ وطن واپسی کرنے والے مہاجرین میں ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں۔ کوچی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بعض مشکوک مہاجرین کے قومی شناختی کارڈز جعلی قرار پائے ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
پشاور میں چھوٹے کاروباری افغان مہاجرین کی واپسی سب سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ غیر قانونی مہاجرین کے خلاف کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد کاروباری مراکز اور رہائشیں خالی کرنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے صوبے کی مقامی معیشت، روزگار کے مواقع اور تعلیمی نظام پر فوری اور طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خالی دکانیں اور بند اسکولوں نے شہر کی رونق پر گہرا اثر ڈالا ہے اور عوام میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔

Leave feedback about this