پاکستان تازہ ترین

عمران خان قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں، پشاور جلسے میں قرارداد منظور

عمران خان قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں، پشاور جلسے میں قرارداد منظور

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پشاور جلسے میں قرار داد منظور کرلی، جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام عمران خان کو ایک قومی ہیرو اور پاکستان کا منتخب حقیقی وزیراعظم مانتے ہیں، جنہیں 8 فروری 2024 کو عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا تھا۔ ہم اس بات کو یکسر مسترد اور شدید مذمت کرتے ہیں کہ وہ یا ان کے ساتھی کسی طرح قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور فوراً رہا کیا جائے۔ عمران خان کی اپنے اہلِ خانہ، وکلا اور سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔ہم اس سیاسی جدوجہد کے تمام شہدا چاہے وہ 9 مئی کے ہوں، 26 نومبر کے ہوں یا کسی اور موقع کے، کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان تمام یونیفارم پہنے جوانوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ دیا۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سب کی قربانیاں کبھی فراموش نہ کی جائیں۔ہم اپنے صوبے میں گورنر راج کے کسی بھی تصور کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے تمام رکاوٹوں اور دھاندلی کے باوجود عمران خان اور پی ٹی آئی کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ گورنر راج کے نتیجے میں بننے والی کوئی بھی حکومت عوام کی نظر میں غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگی۔ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس میں استعمال کیے گئے لہجے اور رویے پر سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔ ایک غیر منتخب عسکری ترجمان نے منتخب قیادت کے لیے غیرمہذب زبان استعمال کی، جس میں عمران خان، جو عوام کے نزدیک جائز وزیراعظم اور قومی ہیرو ہیں، اور سہیل آفریدی جو خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ ہیں اور 4 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، شامل ہیں۔ یہ رویہ قائداعظم کے سول سپرمیسی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ہم اس غلط اور گمراہ کن منطق کی بھی مذمت کرتے ہیں جس کے ذریعے سیاسی رائے اور اختلاف رکھنے والوں کو بتدریج بڑھتا ہوا قومی سلامتی کا خطرہ کہا گیا، اور پھر سخت ردعمل کی دھمکی دی گئی۔ یہ آئینی حدود، سول بالادستی، عوامی مینڈیٹ اور مسلح افواج کی عزت کے خلاف ہے۔ اس لیے ہم قوم اور اس کی منتخب قیادت سے باضابطہ معافی اور ذمہ دار افراد کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ایسی زیادتی دوبارہ نہ ہو۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image