اچھی صحت قدرت کا تحفہ اور بہت بڑی نعمت ۔ سچی بات یہ ہے کہ تنگ دستی قابل برداشت ہو سکتی ہے اور غربت میں جیسے تیسے انسان گزارہ کرلیتا ہے مگر خراب صحت انسان کے لئے عذاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ عمومی طور پر لوگ صحت سے صرف جسمانی صحت مراد لیتے ہیں۔، غیر سرکاری تنظیم ورلڈ فیڈریشن آف مینٹل ہیلتھ کی تجویز پر 1992 میں اس دن کو منانے کا آغاز ہوا۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی بھرپور انداز میں اس دن کی سرپرستی کی اور یوں گزشتہ 32 برسوں سے بلاتعطل اس دن کو منایا جا رہا ہے۔ہر سال اس دن کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک مرکزی موضوع یا تھیم فراہم کیا جاتا ہے اور اس کی روشنی میں مختلف تقاریب اور سرگرمیاں ترتیب دی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ذہنی صحت کی مناسبت سے عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ برس ذہنی صحت ایک آفاقی انسانی حق ہے کے عنوان سے مرکزی موضوع فراہم کیا تھا، جبکہ رواں برس کام کی جگہ پر ذہنی صحت (Mental Health at Work) پر زور دیا جا رہا ہے۔ روزگار یا ملازمت کے ساتھ جڑے ذہنی مسائل میں اضافہ ہوا ہے، چنانچہ متعلقہ ادارے کوشاں ہیں کہ ان مسائل پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے۔بلاشبہ انسان کا جسم درست اور صحت مند ہونا چاہیے مگر یہ صحت کا محدود اور ناقص تصور ہے۔ جدید طبی سائنس میں صحت کا تصور بڑے ہمہ گیر انداز میں سامنے آتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق صحت اس کیفیت کا نام ہے جس میں ایک انسان جسمانی، ذہنی اور سماجی اعتبار سے درست ہو۔ محض جسمانی ضعف یا بیماری کی غیر موجودگی کی بنیاد پر کسی شخص کو صحت مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صحت مند ہونے کے لیے لازمی ہے کہ انسان تینوں تناظر میں درست اور متوازن ہو۔ جسمانی، ذہنی اور سماجی توازن انسانی صحت کی بنیاد ہے۔

Leave feedback about this